
خلیج اردو
بدھ کے روز دبئی میں واقع منی پل اکیڈمی آف ہائر ایجوکیشن کے کیمپس میں آگ بھڑک اُٹھی، جس کے بعد سیاہ دھوئیں کے بادل فضا میں بلند ہونے لگے اور یہ منظر سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گیا۔
عینی شاہدین اور سوشل میڈیا پر گردش کرتی ویڈیوز کے مطابق آگ کی لپیٹ میں عمارت کا ایک چھوٹا سا حصہ آیا جو مرکزی کیمپس سے کچھ فاصلے پر واقع تھا۔ یہ عمارت کیمپس کے احاطے میں تو ہے لیکن مرکزی ڈھانچے سے منسلک نہیں ہے۔
ابتدائی رپورٹس کے مطابق کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔
فوری طور پر ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور کارروائی کرتے ہوئے آگ کو قابو میں لے لیا۔
یونیورسٹی کے ایک ذرائع نے، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا:
"یہ واقعہ کیمپس کے اندر موجود ایک الگ عمارت میں پیش آیا جو مرکزی عمارت سے منسلک نہیں۔ یہ معمولی نوعیت کا واقعہ تھا اور آگ پر جلد قابو پا لیا گیا۔”
طلبہ نے سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کی خیریت دریافت کرتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا اور واقعے کی تفصیلات جاننے کی کوشش کی۔ متعدد افراد کو جائے وقوعہ پر رک کر آگ کی ویڈیوز بناتے بھی دیکھا گیا، جو سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیل گئیں۔
منی پل اکیڈمی آف ہائر ایجوکیشن (MAHE) دبئی کی بنیاد سال 2000 میں رکھی گئی تھی، جو بھارت کے معروف ادارے منی پل اکیڈمی کا برانچ کیمپس ہے۔ یہ متحدہ عرب امارات کی سب سے بڑی نجی جامعات میں سے ایک ہے جہاں 25,000 سے زائد طلبہ 23 مختلف شعبوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
دریں اثنا، خلیج ٹائمز نے دبئی سول ڈیفنس سے رابطہ کیا ہے اور ان کے جواب کا انتظار ہے۔







