متحدہ عرب امارات

دبئی پراپرٹی مارکیٹ: گولڈن ویزا سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھنے لگا

خلیج اردو
دبئی:دبئی کی پراپرٹی مارکیٹ میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کی دلچسپی میں اضافہ ہو رہا ہے، خاص طور پر گولڈن اور ریٹائرمنٹ ویزا جیسے طویل المدتی اقامتی پروگراموں کی بدولت۔

ان اسکیموں کی وجہ سے سرمایہ کار پُراعتماد ہیں کہ کرایہ دار نوکری ختم ہونے کے بعد بھی دبئی میں رہ سکتے ہیں، جس سے ان کی جائیدادیں خالی ہونے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔

کووڈ-19 کے بعد دبئی کی پراپرٹی مارکیٹ میں غیر ملکی سرمایہ کاروں نے بڑی تعداد میں سرمایہ کاری کی، خاص طور پر آف پلان منصوبوں میں، جہاں انہیں بلند منافع کی توقع ہوتی ہے۔

مشہور آن لائن رئیل اسٹیٹ کمپنی آئی کیو آئی کے شریک بانی اور گروپ سی ای او کاشف انصاری کے مطابق، "غیر ملکی سرمایہ کار دبئی میں جائیداد خریدتے وقت سب سے زیادہ یہ سوال کرتے ہیں کہ ان کے کرایہ دار کون ہوں گے۔

گولڈن ویزا، گرین ویزا اور ریٹائرمنٹ ویزا جیسے طویل المدتی اقامتی منصوبے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کر رہے ہیں کیونکہ انہیں یقین ہوتا ہے کہ ان کے کرایہ دار نوکری ختم ہونے کے بعد بھی دبئی میں رہ سکیں گے۔”

جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کے سرمایہ کار جب یہ جانتے ہیں کہ دبئی میں انکم ٹیکس صفر ہے، تو وہ حیران رہ جاتے ہیں۔ انصاری کا کہنا تھا، "انہیں یہ جان کر خوشگوار حیرت ہوتی ہے کہ یہاں سرمایہ کاری کا عمل شفاف ہے اور سرمایہ کو ملک میں لانے اور باہر لے جانے کا نظام بھی بہت آسان ہے۔”

دنیا بھر کے کروڑ پتی سرمایہ کار دبئی کا رخ کر رہے ہیں، خاص طور پر یورپ میں رئیل اسٹیٹ پر زیادہ ٹیکس اور دیگر عالمی شہروں کے مقابلے دبئی میں جائیداد کی کم قیمتیں انہیں یہاں سرمایہ لگانے پر آمادہ کر رہی ہیں۔

انصاری نے مزید کہا کہ دبئی میں پراپرٹی کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں، کچھ علاقوں میں تو قیمتیں دُگنی ہو چکی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ زیادہ مالدار سرمایہ کار اس مارکیٹ میں دلچسپی لے رہے ہیں، کیونکہ متوسط طبقے کے لیے قیمتیں پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں۔

انصاری نے مشورہ دیا کہ "اگر کوئی سرمایہ کار اچھا منافع چاہتا ہے تو دو ایک ملین درہم کی پراپرٹیز خریدنے کے بجائے ایک ہی پراپرٹی 2 ملین درہم کی خریدے، کیونکہ بڑی مالیت کی جائیدادوں سے زیادہ منافع حاصل کیا جا سکتا ہے۔”

انہوں نے مزید کہا، "دنیا میں بڑھتے ہوئے جغرافیائی اور معاشی خطرات کے پیش نظر، کروڑ پتی افراد محفوظ اور مستحکم ممالک کی تلاش میں ہیں۔ ایسے میں متحدہ عرب امارات نمایاں حیثیت رکھتا ہے، جو کاروبار دوست ماحول، عالمی تجارتی ٹائم زون، شاندار انفراسٹرکچر اور لگژری طرزِ زندگی کی پیشکش کرتا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button