
خلیج اردو
دبئی: دبئی کی عدالت نے پانچ ایشیائی باشندوں کو پولیس افسر بن کر ایک عرب شہری سے 9,900 درہم فراڈ کرنے کے جرم میں ایک ماہ قید اور ملک بدر کرنے کی سزا سنائی ہے۔ عدالت نے مجرمان پر مجموعی طور پر 9,900 درہم کا جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق یہ واقعہ مارچ میں پیش آیا، جب متاثرہ شہری کو ایک شخص نے فون کرکے خود کو پولیس افسر ظاہر کیا اور اسے بتایا کہ اگر اس نے فوری طور پر اپنے بینک اکاؤنٹ کی معلومات اپڈیٹ نہ کیں تو اس کا اکاؤنٹ منجمد کر دیا جائے گا۔ خوفزدہ شہری نے اپنی تفصیلات فراہم کیں، جس کے فوراً بعد اس کے اکاؤنٹ سے بغیر اجازت 9,900 درہم نکال لیے گئے۔
تحقیقات کے دوران دبئی پولیس نے دیرہ میں ایک فلیٹ پر چھاپہ مارا، جہاں یہ افراد رہائش پذیر تھے اور فراڈ کی سرگرمیاں انجام دے رہے تھے۔ فلیٹ سے کئی اسمارٹ فون برآمد ہوئے، جن میں سے کچھ جوتوں اور پلاسٹک کی تھیلیوں میں چھپائے گئے تھے۔ فرانزک تجزیے سے معلوم ہوا کہ انہی فونز میں سے ایک سے متاثرہ شخص سے رابطہ کیا گیا تھا۔
ملزمان نے تفتیش کے دوران اعتراف کیا کہ وہ ایک ایسے شخص کے کہنے پر کام کر رہے تھے جو اپارٹمنٹ کرائے پر لینے کے بعد ملک چھوڑ چکا تھا۔ وہ بیرون ملک سے ہدایات دیتا تھا، متاثرین کے بینک ڈیٹا سے رقم نکالتا اور ملزمان کو ماہانہ 1,800 سے 2,000 درہم تنخواہ دیتا تھا۔
عدالت نے پانچوں افراد کو دھوکہ دہی اور جعلی شناخت اختیار کرنے کا مجرم قرار دیا۔ قید کی سزا مکمل ہونے کے بعد ان افراد کو ملک بدر کر دیا جائے گا۔
دبئی پولیس نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ وہ ایسے فون کالز سے ہوشیار رہیں جن میں خود کو پولیس یا بینک اہلکار ظاہر کرکے ذاتی یا بینکنگ معلومات طلب کی جاتی ہیں۔ پولیس کے ترجمان نے کہا، "دبئی پولیس کسی بھی حالت میں فون پر بینکنگ معلومات نہیں مانگتی۔ ایسی کالز مشکوک ہوتی ہیں، فوراً کال ختم کریں اور 901 پر یا دبئی پولیس ایپ کے ذریعے اطلاع دیں۔”







