متحدہ عرب امارات

دبئی اسٹوڈنٹس کونسل میں شامل طالبات نے قیادت کا ذمہ سنبھال لیا

خلیج اردو
دبئی میں نئے تشکیل دیے گئے دبئی اسٹوڈنٹس کونسل میں شامل دو طالبات—وینیا پہوا اور انایا دانش—کو جب ولی عہد شیخ حمدان بن محمد بن راشد المکتوم کی جانب سے ذاتی خطوط موصول ہوئے تو یہ صرف کامیابی نہیں تھی بلکہ ایک بڑی ذمہ داری کا آغاز تھا۔ دونوں طالبات نے اس پُرمسرت انتخاب کو نہ صرف اعزاز بلکہ اپنے کردار، قیادت اور مستقبل کی ذمہ داری سے جڑی ایک نئے سفر کی ابتدا قرار دیا ہے۔

وینیا پہوا کا کہنا ہے کہ ان کے مختلف طلبہ قائدانہ کرداروں نے انہیں اپنے اسکول کی ضروریات، طلبہ کے مسائل اور جذباتی ماحول کو سمجھنے میں مدد دی۔ اسی تجربے نے انہیں اعتماد دیا کہ وہ طلبہ کی آواز مؤثر طریقے سے حکام تک پہنچا سکیں گی۔ اسکول کی نامزدگی کے بعد درخواست، سی وی اور انٹرویوز کے مراحل سے گزرتے ہوئے وہ سلیکٹ ہوئیں۔

انایا دانش کے مطابق انہوں نے بغیر کسی تردد کے درخواست دی۔ بیرون ملک سفر کے دوران ہی انہوں نے فارم پُر کیا اور آگے بڑھ کر خود کو ثابت کیا۔ انٹرویوز کے لیے پورے دبئی سے صرف 40 طلبہ منتخب ہوئے، اور انایا ان میں شامل تھیں۔ بالآخر اسکول میں دورانِ بریک انہیں شیخ حمدان کا خصوصی انتخابی خط ملا، جو ان کے لیے اعزاز اور فخر کا لمحہ تھا۔

ذمہ داری کا احساس اور مستقبل کے منصوبے
دونوں طالبات نے اعتراف کیا کہ اتنے بڑے فورم کا حصہ بننا نہ صرف اعزاز ہے بلکہ تقریباً چار لاکھ طلبہ کی نمائندگی کا بھاری بوجھ بھی ساتھ لاتا ہے۔

وینیا طلبہ کی ذہنی صحت، حقیقی زندگی کی مہارتوں، مالیاتی علم، جذباتی ذہانت اور بہتر مواصلاتی تربیت کو اپنے ایجنڈے کا حصہ بنانا چاہتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ سرویز اور براہِ راست معلومات کے ذریعے طلبہ کی ضروریات جان کر ان کے لیے عملی حل تجویز کریں گی۔

دوسری جانب انایا ماحولیات، ثقافتی ہم آہنگی اور ٹیکنالوجی کو اپنا مرکزی موضوع بنا رہی ہیں۔ وہ طلبہ کو ماحول دوست اقدامات، پائیدار منصوبوں اور مختلف ثقافتوں کے درمیان بہتر فہم و آگاہی میں شامل کرنا چاہتی ہیں۔ ساتھ ہی وہ نئی ٹیکنالوجیز—خصوصاً AI اور بائیوٹیکنالوجی—کے حوالے سے طلبہ کی تیاری کو مستقبل کے لیے ضروری سمجھتی ہیں۔

شیخ محمد بن راشد کی کتاب — رہنمائی کا ذریعہ
کونسل کے ہر رکن کو شیخ محمد بن راشد المکتوم کی کتاب Lessons from Life تحفے میں دی گئی۔ کتاب کی تعلیمات دونوں طالبات کے لیے رہنمائی کا باعث بنیں۔

وینیا کو کتاب کا وہ قول سب سے زیادہ متاثر کر گیا جس میں کہا گیا کہ زندگی نے مجھے سکھایا ہے کہ کسی کا انتظار نہ کرو، خود پہل کرو—لوگ خود پیچھے آئیں گے۔

انایا نے The Two Wings of Prosperity باب کو اپنا روحانی رہنما قرار دیا، جس میں شیخ محمد نے قیادت کا حقیقی مطلب بتایا ہے—کہ ایک رہنما صرف سہولیات نہیں دیتا بلکہ انصاف، ہمدردی، تعاون اور برداشت کو پروان چڑھاتا ہے۔

خدمت کے جذبے کے ساتھ مستقبل کی تیاری
دونوں طالبات نے اس بات پر زور دیا کہ یہ منصب عزت کے لیے نہیں بلکہ خدمت کے لیے ہے۔ وینیا اسے مختلف ثقافتوں کو سمجھنے، نفسیات کی طرف اپنے مستقبل کے راستے کو مضبوط بنانے اور طلبہ کی بہبود کے لیے ایک قدم سمجھتی ہیں۔

انایا اسے اپنی شناخت کا حصہ سمجھتی ہیں—لوگوں کی خدمت، ماحول سے محبت اور ٹیکنالوجی کے ذریعے مستقبل کی تعمیر۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ پلیٹ فارم ان کے لیے نہیں بلکہ ان لوگوں کے لیے ہے جن کی آواز وہ بنیں گی۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button