
خلیج اردو:
متحدہ عرب امارات اور چلی کے درمیان جامع اقتصادی شراکت داری معاہدہ (سیپا) باقاعدہ طور پر نافذ ہو گیا ہے، جس کے بعد دونوں ممالک نئے تجارتی اور سرمایہ کاری کے مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں۔ حکام نے اسے ایک اسٹریٹجک پیش رفت قرار دیا ہے جو نئے بازاروں تک رسائی، سپلائی چین کی مضبوطی اور تیزی سے بڑھتے تجارتی شعبوں میں مزید مواقع فراہم کرے گی۔
سال 2024 میں یو اے ای کی غیر تیل تجارت چلی کے ساتھ 270 ملین ڈالر رہی، جبکہ 2025 کی پہلی ششماہی میں اس میں 7.1 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور یہ 153 ملین ڈالر تک پہنچ گئی۔ معاہدہ نافذ ہونے کے بعد توقع ہے کہ آئندہ پانچ برسوں میں دوطرفہ تجارت 500 ملین ڈالر سے تجاوز کر جائے گی۔
وزیر مملکت برائے غیر ملکی تجارت ڈاکٹر ثانی بن احمد الزیودی نے کہا کہ یو اے ای – چلی سیپا کا نفاذ دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات میں ایک اہم سنگِ میل ہے، جو قابلِ تجدید توانائی، زراعت، سیاحت اور انفراسٹرکچر جیسے اہم شعبوں میں تعاون کے نئے دروازے کھولے گا۔ انہوں نے کہا کہ معاہدہ کھلی اور اصولوں پر مبنی تجارت کے لیے یو اے ای کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
چلی کی مضبوط معیشت اور سرمایہ کاری کے مواقع
چلی 300 بلین ڈالر سے زائد کی معیشت رکھتا ہے اور مینوفیکچرنگ، مالیاتی خدمات، توانائی، سیاحت اور زراعت میں نمایاں امکانات موجود ہیں۔ یہ ملک تانبے اور لتھیم کا عالمی سطح پر اہم پیداواری مرکز ہے، جس کی وجہ سے یو اے ای کے ادارہ جاتی سرمایہ کار مستقبل کے شعبوں تک رسائی کیلئے چلی میں دلچسپی بڑھا رہے ہیں۔
گزشتہ برسوں میں دونوں ممالک کے تعلقات میں قابلِ ذکر اضافہ ہوا ہے۔ ابو ظہبی کی ADQ کمپنی نے چلی کی بڑی پھل برآمد کرنے والی کمپنی Verfrut کو خریدا، جبکہ ADIA نے Urban Market Project میں سرمایہ کاری کی۔ توقع ہے کہ سیپا معاہدہ باہمی سرمایہ کاری کو مزید مضبوط بنائے گا۔
سپلائی چین کنیکٹیویٹی میں اضافہ
معاہدہ صرف اشیا تک محدود نہیں بلکہ اس میں لوجسٹکس، ہوابازی، سیاحت اور سمندری خدمات جیسے وسیع شعبے بھی شامل ہیں۔ یو اے ای کی عالمی تجارتی مرکز کی حیثیت چلی کی برآمدات کو افریقہ، یورپ اور ایشیا کے بازاروں تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔
انفراسٹرکچر کے شعبے میں بھی گہرا تعاون متوقع ہے، خاص طور پر بندرگاہوں، ٹرانسپورٹ نیٹ ورکس اور اسٹوریج سہولیات میں، جس سے دونوں ممالک کی سپلائی چین مزید مضبوط ہوگی۔ زراعت چلی کی برآمدات کا اہم ستون ہے، اور سیپا معاہدہ اس شعبے میں تعاون بڑھانے کا باعث بنے گا، جس سے یو اے ای کی فوڈ سیکیورٹی حکمت عملی کو بھی مدد ملے گی۔
یہ معاہدہ یو اے ای کے وسیع تجارتی وژن کا حصہ ہے، جس کے تحت 2031 تک مجموعی تجارت کو ایک ٹریلین ڈالر تک پہنچانے اور معیشت کو 800 بلین ڈالر سے زیادہ تک دوگنا کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ سیپا پروگرام کے تحت یو اے ای اب تک 32 ممالک کے ساتھ معاہدے کر چکا ہے، جن کی مارکیٹیں دنیا کی تقریباً ایک چوتھائی آبادی پر مشتمل ہیں۔







