خلیج اردو
دبئی کے پندرہ سالہ نوجوان عبداللہ نے ای-سکوٹر کے استعمال پر قوانین سخت کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ وہ اپنی قریبی دوست کی المناک حادثے میں موت کے بعد مسلسل حفاظتی اقدامات کی مہم چلا رہے ہیں۔ عبداللہ کا کہنا ہے کہ وہ ہر اس شخص کو روک لیتے ہیں جو بغیر ہیلمٹ یا ریفلیکٹو جیکٹ کے ای-سکوٹر استعمال کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
عبداللہ نے کہا، "جب بھی میں اپنے اسکول کے طلبہ یا خاندان کے کسی فرد کو بغیر ہیلمٹ باندھے یا مناسب حفاظتی لباس کے ای-سکوٹر پر سوار ہوتے دیکھتا ہوں تو میں انہیں فوراً روک لیتا ہوں۔ ہمارے اسکول کے کئی طلبہ ای-سکوٹر استعمال کرتے ہیں لیکن اکثر حفاظتی اصولوں کو نظر انداز کرتے ہیں۔ میں جتنا ہو سکے لوگوں کو آگاہ کرنے کی کوشش کرتا ہوں لیکن میرا ماننا ہے کہ حکومت کو اس حوالے سے قوانین مزید سخت اور ان کا نفاذ مؤثر بنانا چاہیے تاکہ مزید حادثات سے بچا جا سکے۔”
رواں سال فروری میں عبداللہ نے اپنی بچپن کی دوست کو الم ناک ای-سکوٹر حادثے میں کھو دیا تھا۔ عبداللہ کا کہنا تھا، "میں آج بھی اس بارے میں بات نہیں کر سکتا۔ مجھے یقین نہیں آتا کہ وہ اب اس دنیا میں نہیں رہی اور میں کبھی اس کے ساتھ کوئی بات نہیں کر سکوں گا۔ وہ میری بہت قریبی دوست تھی۔”
عبداللہ خود بھی روزانہ ای-سکوٹر کے ذریعے اسکول آتے جاتے ہیں۔ انہوں نے بتایا، "میں روزانہ اسکول سے میٹرو اسٹیشن اور پھر میٹرو سے اپنے گھر ای-سکوٹر کے ذریعے آتا جاتا ہوں۔ پہلے میں بھی حفاظتی اصولوں کے حوالے سے لاپرواہ تھا لیکن حادثے کے بعد مجھے اندازہ ہوا کہ لوگ کس قدر خطرناک انداز میں ای-سکوٹر چلاتے ہیں۔ میں نے اپنی آنکھوں سے کئی خطرناک واقعات اور بال بال بچے حادثات دیکھے ہیں۔”
رواں سال اپریل میں دبئی حکام نے سائیکل اور ای-سکوٹر سواروں کی خلاف ورزیوں کی نگرانی کے لیے خصوصی پرسنل موبیلیٹی مانیٹرنگ یونٹ قائم کیا تھا۔ دبئی میں ای-سکوٹر کی مقبولیت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور اس سال ان کے ذریعے سفر کی تعداد میں 8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ای-سکوٹر کے استعمال کے لیے سخت قوانین موجود ہیں جن کے تحت خلاف ورزی کرنے والوں پر 300 درہم تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے، جن میں عوامی سڑکوں پر سوار ہونا، خطرناک ڈرائیونگ اور حفاظتی سامان نہ پہننے جیسے عوامل شامل ہیں۔ دبئی پولیس نے حال ہی میں انکشاف کیا کہ صرف 2024 میں البرشاء کے علاقے سے 656 ای-سکوٹر مختلف خلاف ورزیوں کی وجہ سے ضبط کیے جا چکے ہیں۔
تاہم عبداللہ کا کہنا ہے کہ ان کے گھر کے قریب اب بھی لوگ خطرناک انداز میں ای-سکوٹر چلاتے ہیں۔ "میں روزانہ دیکھتا ہوں کہ لوگ عوامی سڑکوں پر، یہاں تک کہ ٹریفک کے مخالف سمت میں ای-سکوٹر چلاتے ہیں۔ ای-سکوٹر ایک شاندار سفری سہولت ہے لیکن ان لوگوں کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے جو اس کا غلط استعمال کر کے اپنی اور دوسروں کی جان خطرے میں ڈالتے ہیں۔







