متحدہ عرب امارات

دبئی میں خاتون کو دوست کے پاسپورٹ کی کاپی استعمال کر کے منشیات سے بھرا پارسل لینے پر تین ماہ قید کی سزا**

خلیج اردو
دبئی کی عدالت نے ایک وسط ایشیائی خاتون کو تین ماہ قید اور بعد ازاں ملک بدری کی سزا سنائی ہے۔ خاتون نے اپنی دوست کے پاسپورٹ کی کاپی استعمال کرتے ہوئے ایک ایسا پارسل وصول کرنے کی کوشش کی جس میں کاغذوں پر منشیات کو بھگو کر بھیجا گیا تھا، جبکہ عدالت نے دوست کو جرم سے بری قرار دے دیا۔

واقعہ رواں سال اپریل میں اُس وقت سامنے آیا جب کسٹمز آفیسر کو یورپی ملک سے آنے والے ایک پارسل پر شبہ ہوا۔ دستی معائنے میں پتا چلا کہ پارسل میں ایسے کاغذات موجود ہیں جن میں منشیات شامل تھی۔ حکام نے فوری طور پر کنٹرولڈ آپریشن شروع کیا اور پارسل وصول کرنے والے شخص کا سراغ لگایا۔

تحقیقات کے مطابق ملزمہ شپنگ کمپنی کے دفتر پہنچی اور پاسپورٹ کی ایک پرنٹ شدہ کاپی دکھا کر اپنا تعارف پیش کیا۔ موقع پر موجود کسٹمز اور پولیس افسران نے اسے گرفت میں لے لیا۔ ایک پولیس اہلکار نے عدالت میں بیان دیا کہ خاتون مسلسل اصرار کرتی رہی کہ پاسپورٹ میں درج نام اُس کا اپنا ہے، لیکن ڈیٹا چیک میں واضح ہوا کہ وہ اپنی دوست کے پاسپورٹ کی کاپی استعمال کر رہی تھی، جسے فوری طور پر طلب کیا گیا۔ پاسپورٹ کی اصل مالکہ نے واقعے سے مکمل لاعلمی کا اظہار کیا۔

بعد ازاں معلوم ہوا کہ دونوں خواتین کی سابقہ دوستی دبئی میں رہائش کے دوران ہوئی تھی۔ دوست نے اعتراف کیا کہ اس نے اپنی پاسپورٹ کاپی صرف اس مقصد کے لیے دی تھی کہ ملزمہ نئے وزٹ ویزے کے لیے درخواست دے سکے، مگر ملزمہ نے اس کا غلط استعمال کرتے ہوئے غیر قانونی پارسل وصول کرنے کی کوشش کی۔

دورانِ سماعت ملزمہ نے جرم سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ پارسل اس کا نہیں تھا اور ایک خلیجی شہری نے اسے یورپ سے آنے والی “کتاب” وصول کرنے کی درخواست کی تھی کیونکہ وہ انگریزی نہیں جانتا تھا۔ تاہم عدالت نے اس مؤقف کو مسترد کر دیا اور قرار دیا کہ کسی اور کے پاسپورٹ کی کاپی کا جان بوجھ کر استعمال اس کی نیت کو واضح کرتا ہے کہ وہ اپنی شناخت چھپانا چاہتی تھی۔

عدالت نے دوست کو تمام الزامات سے بری کر دیا کیونکہ اس کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔

ملزمہ تین ماہ کی قید پوری کرنے کے بعد ملک بدر کر دی جائے گی۔

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button