متحدہ عرب امارات

ایک سال سے تنخواہیں نہ ملنے کی وجہ سے دبئی کے ایک بڑے ہوٹل کے ملازمین مالی بدحالی کا شکار

 

خلیج اردو آن لائن:

نجی خبررساں ادارے خلیج ٹائمز پر شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق بر دبئی میں الفلاح سٹریٹ پر واقع ایمبسیڈر ہوٹل کے 37 ملازمین نے الزام عائد کیا ہے کہ ان میں سے بیشتر کو دو سال سے تنخواہ نہیں دی گئی ہے۔

انکا مزید کہنا تھا کہ ہوٹل مالک جو اس وقت بھارت میں ہے، انہیں ڈر ہے کہ اس نے ہمیں بے یار ومددگار "بھوک سے مرنے کے لیے چھوڑ دیا ہے۔

تاہم ہوٹل کے مالک پرکاش للا نے ان الزامات کی تردید کی ہے اور کہا  کہ ہوٹل دوبار سے کام شروع کردے گا اور جب وہ واس یو اے ای آجائے گا تو تمام اسٹاف کو تنخواہیں ادا کر دی جائیں گیں۔

یہ ہوٹل 50 سال پہلے دبئی کے حکمران شیخ راشد بن سعید المکتوم نے بنوایا تھا۔ جس ہوٹل میں کبھی مشہور اور بڑے لوگ قیام کرتے تھے اس پر اب اسی کے ملازمین کا قبضہ ہے۔

1997 میں بطور بارٹینڈر کے ہوٹل میں نوکری کرنے والے پروین سولنکی نامی ملازم نے خلیج ٹائمز کو بتایا کہ "مجھے ڈیڑھ سال سے تنخواہ نہیں ملی۔ کمپنی کو مجھے 55 ہزار واجبات اور گریجوئٹٰی ادا کرنی ہے۔ اچھی بات صرف یہ ہے میں سڑکوں پر نہیں سو رہا بلکہ میں اسی ہوٹل میں رہ رہا ہوں”۔

اس نے مزید بتایا کہ”ہم پورا دن کمرے میں بیٹھے رہتے ہیں، ہمارے پاس پھوٹی کوڑی بھی نہیں ہے۔ ہم کورونا کے باعث باہر بھی نہیں جا سکتے۔ ہماری خاندان گھروں میں فاقے کاٹ رہیں۔ ہمیں کوئی نظر نہیں آ رہی”۔

بھارتی ریاست گجرات سے تعلق رکھنے والے ملازم نے بتایا کہ اسے مینجمنٹ نے مفت ٹکٹ اور 1 ہزار درہم کی پیشکش کی تھی لیکن وہ اس نے ٹھکرا دی۔

سولنکی نے مزید بتایا کہ اسے اپنے بیٹے کے گردے کے ٹرانسپلانٹ کے لیے پیسوں کی اشد ضرورت ہے۔ ” جو کہ 26 سال کا ہے ڈائلیسز پر زندگی گزار رہا ہے۔

سولنکی عملے کے سب سے پرانے ممبروں میں شامل ہیں جنہوں نے ہوٹل کو اپنے شاندار دنوں سے آہستہ آہستہ نیچے آتے اور بالاآخر بند ہوتے دیکھا ہے۔ پچھلے سال  کہ ستمبر 2019 میں ہوٹل کی تزئین و آرائش کے لئے بند کرنے سے پہلے بہت سارے پرانے لوگ ملک واپس چلے گئے ہیں۔

لیکن جو لوگ پیچھے رہ گئے انہیں غیر یقینی مستقبل کا سامنا ہے ، جس کے زندہ رہنے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔

 

2017 میں ہوٹل میں ملازمت اختیار کرنے والے پرومود پتوردھن کا کہنا تھا "ہم کب تک اس طرح زندہ رہ سکتے ہیں؟ ہم زندہ ہیں کیونکہ ایک خیراتی ادارہ دن میں دو بار کھانا بھیج رہا ہے۔ ہمارے پاس جیب میں ایک پیسہ بھی نہیں ہے۔ ہمارے ویزے کی میعاد ختم ہوگئی ہے "۔

پرومود نے دعوی کیا کہ اسے 2018 میں صرف دو ماہ کے لئے تنخواہ دی گئی تھی۔ "مجھے یاد نہیں کہ آخری بار جب میں نے گھر پیسے بھجواے تھے۔ میری فیملی اخراجات پورے کرنے کے لئے جدوجہد کر رہا ہے۔ میرے سسر اخراجات پورے کر رہے ہیں”۔

خلیج ٹائمز کو انٹرویو دینے والے ایک درجن سے زائد افراد نے تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور مستقبل کی غیر یقینی صورتحال سے متعلق بتایا۔

اس ساری امید کو کھوئے ہوئے کہ انتظامیہ اپنے وعدوں پر عمل کرے گی ، کچھ ملازمین نے آجر کے خلاف قانونی مقدمہ دائر کیا۔ عدالتی کاغذات سے پتہ چلتا ہے کہ مزدوروں کو ایک سازگار فیصلہ ملا ہے ، جس نے مالک کو واجبات حل کرنے کا حکم دیا تھا۔

بھارت کی ریاست اتھارکھنڈ سے تعلق رکھنے والے ملازم نے بتایا کہ”ہم میں سے 18 افراد اپنی تنخواہوں کے حصول کے لئے عدالت گئے۔ ہم نے کچھ سیشنوں میں شرکت کی اور فیصلہ بھی لیا ، لیکن اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوا کیوں کہ ہوٹل انتظامیہ کا کوئی بندہ بھی ملک میں نہیں ہے”۔

ہندوستانی قونصلیٹ نے کہا کہ وہ اس مسئلے سے آگاہ ہیں اور پریس قونصل  نیرج اگروال نے بتایا انہوں نے ایچ آر منیجر سے رابطہ کیا ہے لیکن اس کا کہنا ہے ، "انہوں نے کہا کہ انہیں خود مہینوں سے تنخواہ نہیں دی گئی۔ ہمیں بتایا گیا کہ مالک ہندوستان میں ہے۔ اگر کوئی بھی کارکن گھر جانا چاہتا ہے تو ، قونصل خانہ ہر طرح کی مدد کرنے کو تیار ہے”۔

تاہم جب خلیج ٹائمز کی جانب سے ہوٹل کے مالک سے رابطہ کیا تو اس کا کہنا تھا کہ ہم ہوٹل کو تازئین آرائش کے لیے بند کرنے سے پہلے 200 ملازمین کے واجبات ادا کر دیے تھے۔ ہوٹل مالک کا کہنا تھا کہ”میں مارچ میں اپنے علاج کے بھارت واپس آگیا لیکن کسے پتہ تھا کہ کورونا اتنی دیر تک رہے گا۔ اور جیسی ہی پروازیں شروع ہوں گی وہ واپس آ کر تمام ملازمین کے واجبات ادار کریں گے اور انہیں واپس اپنےممالک بھیج دیں گے”۔

ہوٹل کے مالک سے جب ملازمین کی تنخواہوں کے بارے میں پوچھا گیا تو انکا کہنا تھا کہ انہیں پیسوں کا کوئی مسئلہ نہیں وہ تو” بس ملازمین کو انکے برے رویے کی وجہ سے ایک باپ کی طرح سزا دے رہے ہیں”۔

ہوٹل مالک للا نے بتایا کہ وہ اکتوبر میں یو اے ای واپس آ جائے گا اور وہ اپنے ہوٹل ایکسپو 2021 سے پہلے تیار کرنا چاہتا ہے۔

Source: Khaleej Times

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button