
خلیج اردو
جمیرہ لیکس ٹاورز میں رہنے والے مکینوں نے رات کے وقت جاری رہنے والے تعمیراتی کام کے شور پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکام سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔
رہائشیوں کے مطابق رات گئے اور بعض اوقات صبح 2 سے 3 بجے تک جاری رہنے والا ہتھوڑوں اور مشینری کا شور ان کی نیند، صحت اور روزمرہ زندگی کو بری طرح متاثر کر رہا ہے۔ کئی افراد نے بتایا کہ بچوں کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے جبکہ بزرگ افراد بھی اس صورتحال کے باعث پریشان ہیں۔
متاثرہ مکینوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے پہلے بھی دبئی میونسپلٹی کو شکایات درج کرائیں، یہاں تک کہ نئی ایپ کے ذریعے شور کی ریکارڈنگ بھی جمع کروائی، تاہم ابھی تک کوئی مؤثر کارروائی دیکھنے میں نہیں آئی۔
دوسری جانب تعمیراتی کمپنیوں کا مؤقف ہے کہ وہ قواعد و ضوابط کے تحت کام کر رہی ہیں اور شور کم کرنے کیلئے اقدامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ ڈی ایم سی سی نے کہا ہے کہ وہ رہائشیوں کی شکایات متعلقہ اداروں تک پہنچا رہے ہیں۔
قانون کے مطابق رہائشی علاقوں میں تعمیراتی کام صبح 7 بجے سے رات 8 بجے تک کی اجازت ہے، جبکہ اس سے باہر کے اوقات میں کام کیلئے خصوصی اجازت درکار ہوتی ہے اور شور کی حد بھی مقرر ہے۔ خلاف ورزی کی صورت میں وارننگ، جرمانہ اور لائسنس منسوخی جیسے اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔
رہائشیوں نے مطالبہ کیا ہے کہ شور کو فوری کم کیا جائے تاکہ ان کے معیارِ زندگی کو بہتر بنایا جا سکے، بصورت دیگر وہ علاقہ چھوڑنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق تیزی سے بڑھتی تعمیرات اور شہری ترقی کے ساتھ رہائشی سکون کے درمیان توازن برقرار رکھنا حکام کیلئے ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔







