متحدہ عرب امارات

دبئی میں شیئرڈ ہاؤسنگ کیلئے لائسنسنگ کی تفصیلات ستمبر میں جاری ہوں گی

دبئی: دبئی میونسپلٹی نے اعلان کیا ہے کہ شیئرڈ ہاؤسنگ سے متعلق نئے قانون کے تحت لائسنس کے تفصیلی تقاضے اور ضروری شرائط ستمبر میں جاری کی جائیں گی۔

نئے قانون کے تحت موجودہ شیئرڈ ہاؤسنگ کے مالکان اور آپریٹرز کو اپنی حیثیت قانونی تقاضوں کے مطابق کرنے کیلئے ایک سال کا وقت دیا گیا ہے۔ ضرورت پڑنے پر ڈائریکٹر جنرل دبئی میونسپلٹی اس مدت میں ایک مرتبہ توسیع بھی کرسکتے ہیں۔

قانون 27 فروری کو جاری کیا گیا تھا اور سرکاری گزٹ میں اشاعت کے 180 دن بعد نافذ العمل ہوا۔ قانون کا مقصد دبئی میں شیئرڈ ہاؤسنگ کو منظم کرنا، رہائشیوں کیلئے مناسب سہولیات یقینی بنانا، مالکان اور مکینوں کے حقوق کا تحفظ اور غیر قانونی رہائش و حد سے زیادہ ہجوم کی روک تھام ہے۔

قانون کے تحت کسی بھی پراپرٹی کو شیئرڈ ہاؤسنگ کیلئے مخصوص کرنے سے پہلے اجازت نامہ لینا ہوگا۔ یونٹ میں رہنے والے افراد کی زیادہ سے زیادہ تعداد، ہر فرد کیلئے مختص جگہ اور مشترکہ سہولیات کا تعین بھی کیا جائے گا۔

شیئرڈ ہاؤسنگ کو منصوبہ بندی، تعمیرات، صحت عامہ، فائر سیفٹی، ماحولیاتی اور سکیورٹی سمیت بجلی کے نیٹ ورک سے متعلق حفاظتی تقاضے بھی پورے کرنا ہوں گے۔

قانون کے تحت شیئرڈ ہاؤسنگ کی 6 کیٹیگریز مقرر کی گئی ہیں جن میں خاندان، انفرادی خواتین، انفرادی مرد، طالبات، طلبہ اور سرکاری ملازمین و نجی کمپنیوں کے کارکن شامل ہیں۔

شیئرڈ ہاؤسنگ کیلئے ایک ڈیجیٹل نظام بھی متعارف کرایا جائے گا جس کے ذریعے اجازت ناموں کی درخواستیں وصول اور ان پر کارروائی کی جائے گی۔ یہ نظام دبئی لینڈ ڈیپارٹمنٹ کے شیئرڈ ہاؤسنگ رجسٹری سے منسلک ہوگا جس میں کرایہ داری اور انتظامی معاہدوں سمیت مکینوں کی معلومات درج ہوں گی۔

قانون میں غیر قانونی پارٹیشنز اور گھروں میں غیر مجاز تبدیلیوں کی بھی حوصلہ شکنی کی گئی ہے۔ مطلوبہ لائسنس اور اجازت کے بغیر شیئرڈ ہاؤسنگ پراپرٹیز میں تبدیلی، تقسیم یا اضافی تعمیرات نہیں کی جاسکیں گی۔

مکینوں کیلئے ماہانہ کرایہ پیشگی ادا کرنا بنیادی اصول ہوگا تاہم فریقین باہمی رضامندی سے مختلف طریقہ کار طے کرسکتے ہیں۔ بجلی اور پانی کے اخراجات بھی بنیادی طور پر کرائے میں شامل ہوں گے جبکہ مکین اپنے مختص حصے کو کسی دوسرے شخص کو سب لیز نہیں کرسکیں گے۔

قانون کی خلاف ورزی پر 500 درہم سے 5 لاکھ درہم تک جرمانہ عائد ہوسکتا ہے جبکہ ایک سال کے اندر دوبارہ خلاف ورزی کی صورت میں جرمانہ دگنا ہوکر زیادہ سے زیادہ 10 لاکھ درہم تک پہنچ سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button