خلیج اردو
بھارتی میڈیا میں دبئی پر ایرانی ڈرون حملے کی ویڈیو چلائی گئی، مگر تحقیق سے ثابت ہوا کہ فوٹیج بحرین کے دارالحکومت منامہ کی ہے۔
بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اس ہفتے ایک ویڈیو کو “دبئی پر ایرانی ڈرون حملہ” قرار دے کر نشر کیا گیا، تاہم حقائق جانچنے والوں نے اس دعوے کو غلط قرار دے دیا ہے۔
ویڈیو میں ایک بغیر پائلٹ طیارہ ایک بلند و بالا عمارت سے ٹکراتا اور دھماکے سے پھٹتا دکھائی دیتا ہے جبکہ سڑک پر موجود افراد اس منظر کو ریکارڈ کرتے نظر آتے ہیں۔ بعض پوسٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ ایرانی ساختہ “شاہد ایک سو چھتیس” ڈرون کا دبئی میں حملہ ہے۔
بھارتی خبر رساں اداروں اور صحافیوں نے بھی یہ فوٹیج نشر یا شیئر کی۔
بھارتی فیکٹ چیکر Mohammed Zubair نے وضاحت کی کہ یہ ویڈیو متحدہ عرب امارات کی نہیں بلکہ بحرین میں رواں ماہ پیش آنے والے واقعے کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ویڈیو کے اہم مناظر کو ریورس امیج سرچ کے ذریعے جانچا گیا جس سے یکم مارچ کی پرانی پوسٹس سامنے آئیں۔
ان کے مطابق ویڈیو میں نظر آنے والی عمارتیں بحرین کے دارالحکومت Manama کی معروف عمارتوں سے مطابقت رکھتی ہیں، جن میں Zaya Tower بھی شامل ہے۔
محمد زبیر کا کہنا تھا کہ فوٹیج منامہ میں ایک بلند عمارت پر ایرانی ڈرون حملے کی ہے اور اس کا دبئی میں کسی واقعے سے کوئی تعلق نہیں۔
ادھر Dubai Police نے سوشل میڈیا پر یاد دہانی کرائی ہے کہ سرکاری اعلانات کے منافی افواہیں یا جھوٹی معلومات پھیلانا قانوناً جرم ہے۔ ایک بیان میں خبردار کیا گیا کہ خلاف ورزی کرنے والوں کو قید اور کم از کم دو لاکھ درہم جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
متحدہ عرب امارات کے حکام نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ علاقائی کشیدگی کے دوران صرف مستند اور سرکاری ذرائع پر انحصار کریں اور غیر مصدقہ مواد شیئر کرنے سے گریز کریں۔
مبصرین کے مطابق حالیہ کشیدہ حالات میں غیر مصدقہ ویڈیوز کی گردش نہ صرف عوام میں خوف و ہراس پیدا کرتی ہے بلکہ ریاستی اداروں کے لیے بھی چیلنج بن سکتی ہے۔







