
خلیج اردو
اگر متحدہ عرب امارات میں کسی صارف کے بینک اکاؤنٹ سے اس کی اجازت کے بغیر رقم منتقل ہو جائے تو قانون بعض حالات میں بینک کو نقصان کی تلافی کا پابند بناتا ہے، بشرطیکہ یہ ثابت ہو جائے کہ صارف کی جانب سے سنگین غفلت یا دھوکہ دہی نہیں ہوئی۔
قانون کے مطابق ای پیمنٹ ذرائع، آن لائن ادائیگی کے نظام، ایپلی کیشنز یا ویب سائٹس کو ہیک کرنا، کریڈٹ یا ڈیبٹ کارڈ کی نقل تیار کرنا یا غیر مجاز استعمال کرنا سنگین سائبر جرم ہے، جس پر قید اور بھاری جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔
مرکزی بینک کے ضوابط کے تحت تمام مالیاتی ادارے اپنے صارفین کو مالیاتی جرائم سے بچاؤ کے بارے میں آگاہی فراہم کرنے اور اپنے سائبر سکیورٹی نظام کو جدید رکھنے کے پابند ہیں۔
قانون کے مطابق اگر کسی صارف کو مالیاتی جرم، سائبر حملے یا معلومات کے غلط استعمال کے باعث نقصان پہنچتا ہے تو متعلقہ مالیاتی ادارہ بروقت نقصان کی تلافی کا ذمہ دار ہو سکتا ہے، تاہم اگر نقصان صارف کی سنگین غفلت یا دھوکہ دہی کے باعث ہوا ہو تو بینک معاوضہ ادا کرنے کا پابند نہیں ہوگا۔
ماہرین کے مطابق اگر صارف نے کسی جعلی ویب سائٹ یا فراڈ لنک کا استعمال نہیں کیا اور یہ ثابت کر سکتا ہے کہ اس کی جانب سے کوئی غفلت نہیں برتی گئی، تو وہ بینک سے تحریری شکایت درج کرا سکتا ہے، جس کے بعد بینک تحقیقات کرے گا۔
اس کے ساتھ متاثرہ صارف کو پولیس میں بھی شکایت درج کرانی چاہیے اور تمام متعلقہ لین دین کی تفصیلات اور شواہد فراہم کرنے چاہئیں۔
اگر بینک کی جانب سے شکایت کا تسلی بخش ازالہ نہ ہو تو صارف معاملہ مزید کارروائی کے لیے متحدہ عرب امارات کے مرکزی بینک کے پاس بھی لے جا سکتا ہے۔







