
خلیج اردو
دبئی: متحدہ عرب امارات کی جنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی (GCAA) نے بدھ کے روز مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) پر مبنی ایک جامع حکمتِ عملی متعارف کرائی ہے جو ملک کے ہوابازی کے نظام میں انقلابی تبدیلی لائے گی۔ اس کے تحت بُکنگ کے جدید نظام سے لے کر ایئرپورٹ کے تیز تر عمل تک ہر شعبے میں جدت آئے گی۔
جی سی اے اے کے ڈائریکٹر جنرل سیف محمد السویدی کے مطابق، اس حکمتِ عملی کے دوسرے مرحلے میں سول ایوی ایشن اتھارٹی اپنی خدمات اور آپریشنل نظام میں اے آئی ٹیکنالوجی کو مربوط کرنے کے لیے کئی تبدیلیاں لا رہی ہے۔
ان اقدامات میں نیشنل اے آئی اسٹریٹجی کا آغاز، آپریشنل عمل کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے بہتر بنانا، اور ایسے اسمارٹ ایپلی کیشنز تیار کرنا شامل ہیں جو صارفین اور ملازمین دونوں کے تجربے کو مزید بہتر بنائیں گی۔
اتھارٹی نے کہا کہ وہ عوامی و نجی اداروں کے ساتھ شراکت داری کو مضبوط بنانے، منصوبہ بندی و مانیٹرنگ کے لیے پریڈیکٹیو اینالٹکس (Predictive Analytics) کے استعمال کو بڑھانے اور کارکردگی و خدمات کے معیار کے نظم کے لیے ذہین نظام متعارف کرانے کا ارادہ رکھتی ہے۔
جی سی اے اے پہلے ہی اپنی کارکردگی میں بہتری کے لیے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی استعمال کر رہی ہے۔ ستمبر میں اس نے "فوکَس” (F.O.C.U.S. – Flight Operations Centralised Unified System) نامی پلیٹ فارم متعارف کرایا جو پروازوں کے آپریشنل اجازت ناموں کے اجرا کے لیے مرکزی ڈیجیٹل گیٹ وے کا کردار ادا کرتا ہے۔
اس سال کے آغاز میں جی سی اے اے نے ڈرونز کو ملکی فضائی حدود میں محفوظ انداز سے شامل کرنے کے لیے نئے قومی ضوابط بھی نافذ کیے ہیں، تاکہ روایتی فضائی جہازوں کے ساتھ ان کی ہم آہنگی یقینی بنائی جا سکے۔







