
خلیج اردو
دبئی: دو عرب شہریوں کے درمیان برسوں پرانی دوستی اس وقت قانونی جنگ میں بدل گئی جب ایک خاتون نے اپنے قریبی دوست سے لیا گیا 35 لاکھ درہم سے زائد کا قرض واپس کرنے سے انکار کر دیا۔ امارات الیوم کے مطابق متاثرہ شخص نے بارہا ذاتی طور پر معاملہ سلجھانے کی کوشش کی لیکن ناکامی کے بعد دبئی کی سول کورٹ سے رجوع کیا۔
گزشتہ ہفتے دبئی سول کورٹ آف فرسٹ انسٹینس نے مقدمہ مرد کے حق میں فیصلہ کرتے ہوئے خاتون کو مکمل رقم کے ساتھ سالانہ 5 فیصد سود، عدالتی فیس اور قانونی اخراجات ادا کرنے کا حکم دیا۔ فیصلے میں ایک ہزار درہم وکیل کی فیس بھی شامل ہے۔
مدعی نے عدالت میں قرض کی تحریری دستاویز جمع کرائی جس پر خاتون کے دستخط موجود تھے، جس میں اس نے واضح طور پر قرض لینے کا اعتراف کیا تھا۔ اس کے باوجود خاتون نے بارہا یاد دہانی کے باوجود کوئی رقم واپس نہیں کی۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق خاتون کچھ سماعتوں میں پیش ہوئیں لیکن نہ کوئی دفاع پیش کیا اور نہ ہی کوئی دعویٰ دائر کیا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اماراتی قانون کے مطابق قرض دہندہ پر قرض ثابت کرنا لازم ہے جبکہ قرض دار پر ادائیگی کا ثبوت دینا لازم ہے۔ اس کیس میں مرد نے قرض کے ثبوت فراہم کیے جبکہ خاتون کوئی شواہد نہ دے سکیں۔
عدالت نے اپنے حکم میں قرار دیا کہ تحریری اعترافِ قرض ناقابلِ تردید ثبوت ہے اور جب تک ادائیگی یا جزوی واپسی کا کوئی ثبوت موجود نہ ہو، مدعا علیہ مکمل رقم ادا کرنے کی پابند ہے۔







