
خلیج اردو
یو اے ای کی کہانی صرف پویلینز اور نمائشوں میں نہیں بلکہ ان خوابوں میں ہے جو لوگ دیکھتے ہیں اور ان اقدامات میں ہے جو انہیں حقیقت میں بدل دیتے ہیں۔ ایکسپو 2025 اوساکا، کانسائی میں یو اے ای پویلین کے افتتاح کے موقع پر دنیا کو یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ یہ صرف قومی کارناموں کی جھلک نہیں بلکہ ایک زندہ کہانی ہے، جہاں جرات مندانہ خواب دیکھنے والے لوگ اپنی محنت سے عالمی اثرات مرتب کر رہے ہیں۔
پویلین کے دلکش حصوں، یوتھ ایمبیسیڈرز کی گفتگوؤں اور ان متاثر کن شخصیات کی مثالوں میں یہ کہانی جھلکتی ہے جنہیں "ڈریمرز ہو ڈو” کہا گیا ہے — یعنی وہ خواب دیکھنے والے جو کر کے دکھاتے ہیں۔
"ارتھ ٹو ایتھر” محض پویلین کا عنوان نہیں بلکہ یو اے ای کی روح ہے۔ یہ ماضی اور ورثے سے جڑے رہتے ہوئے لامحدود امکانات کی جستجو کا عکاس ہے۔ یہ سفر صرف خیالات تک محدود نہیں بلکہ ان افراد کے عمل پر مبنی ہے جو خلا کی جستجو سے لے کر صحت، ماحولیات اور پائیداری تک ہر میدان میں اثر ڈال رہے ہیں۔
خواب جو آسمان سے آگے ہیں
یو اے ای کے خلائی مشن عالمی سطح پر جانے پہچانے ہیں، مگر ان کے پیچھے وہ ذاتی کہانیاں ہیں جو اس سفر کی بنیاد بنتی ہیں۔ ان میں ایک اہم نام نورا المطروشی کا ہے، جو پہلی اماراتی خاتون خلاء نورد اور ناسا کی تربیت یافتہ امیدوار ہیں۔ وہ نہ صرف سائنسی کامیابیوں کی علامت ہیں بلکہ خطے کی نوجوان خواتین کے لامحدود خوابوں اور امنگوں کی بھی نمائندہ ہیں۔







