متحدہ عرب امارات

ایک ملازم سے ترقی پاکر خود مالک بننے والے اس ٹیلر کا پچاس سالہ سفر، وہ ابوظبہی کا سب سے پرانا درزی ہے

خلیج اردو
ابوظبہی : یہ ہے 75 سالہ ایم وی شیوارامن جو بھارتی شہری ہے اور متحدہ عرب امارات میں رہائش پزیر ہے۔ وہ دعویٰ کرتا ہے کہ ابوظبہی میں سب سے پرانا ٹیلر ہے۔ انہوں نے 1971 نومبر میں یو اے ای شویرز کو جوائن کیا۔

شیوارامن ابوظبہی کا مشکور ہے جہاں انہوں نے دارلحکومت میں اپنی ٹیلرنگ دوکان بنائی اور اس کیلئے سفر کا آغاز انہوں نے ایک دوکان میں بطور کارکن کام کرکے کیا۔

قدآور ، خوش لباس ، شریف النفس کیریلا کے رہنے والے درزی نے اس سفر کو یاد کیا ہے۔ انہوں نے1950 کی دہائی میں اپنی ٹیلرنگ شعبے سے وابستگی کا ذکر کیا۔

’’ جب میں بچہ تھا تو میرے گھر کے قریب ایک ٹیلرنگ شاپ کو کھولا گیا۔ یہ ایرنجالاکدا میں تھا۔ میں چوتھی کلاس میں تھا اور اس دوکان کا دورہ کیا کرتا تھا۔ جتنی زیادہ میں اس دوکان میں دری کا فن دیکھتا تھا ، اتنی زیادہ میں اس میں ڈوبتا جلا گیا۔‘‘

’’ اس درزی نے مجھے یہ ہنر سکھایا۔ میں اسکول کے اوقات کے بعد وہاں وقت گزارتا تھا۔ میرا باپ جو سری لنکا میں تھا وہ ابتدا میں اسے پسند نہیں کرتا تھا لیکن بعد میں اسے میری ماں نے منا لیا‘‘۔

’’ جب میں ساتویں کلاس میں پہنچا تو میرے والد نے مجھے ایک سلائی مشین دلا دیا۔ میٹرک کرنے کے بعد میں نے ایک ٹیلرنگ شاپ میں ایک سال کیلئے کام کیا‘‘۔

بہتر مواقع کی تلاش میں وہ 1965 میں اپنا آبائی ضلع تھریسور چھوڑ کر بمبئی یا موجودہ ممبئی کا رخ کیا۔وہ چار بہن بھائیوں میں سب سے بڑا تھا اور والد کی 32.5 روپے کی پنشن آرام دہ زندگی گزارنے کے لیے کافی تھی۔ بعد میں ان کی موت سے ٹھیک پہلے پنشن کی رقم بڑھا کر 56 روپے کر دی گئی اور وہ بھی کام کرنے لگا۔

انہوں نے ممبئی میں سانتا کروز میں ڈیلکس ٹیلرز اور اشوک ٹیلرز جیسی مختلف دکانوں پر کام کیا۔ اسے شرٹ اور پینٹ بنانے میں اچھا تجربہ تھا لیکن اسے کوٹ بنانے میں دلچسپی پیدا ہوئی۔ دو سال بعد وہ کوٹ بنانے کے قابل ہوا۔

شیوارامن کو جب ایک دوست نے ابوظہبی میں کوٹ بنانے والی کمپنی کے افتتاح کے بارے میں بتایا تو اس وقت 24 سال میں وہ 1971 میں دبئی روانہ ہوا۔

وہ بتاتا ہے کہ ـ میں نے پاسپورٹ کیلئے درخواست کی اور دو مہینوں میں سارا کام کیا۔ میں پانچ سو روپے میں ممبئی سے دبئی ایک بحری جہاز سے چلا گیا۔ چھ دنوں کے بعد بائیس نومبر کو میں دبئی پہنچ گیا اور وہاں سے ابوظبہی چلا گیا۔ میں حمدان اسٹریٹ پر فرینڈز ٹیلر کے ساتھ نوکری کا آغاز کیا اور میری تنخواہ ساڑھ چھ سو درہم تھی۔ چار سال بعد میں وینس ٹیلرز کے پاس چلا گیا اور بارہ سو درہم تنخواہ لینے لگا‘‘۔

انگلش سوٹنگ کی بڑھتی ہوئی مانگ کو دیکھ کر شیوارامن نے اپنی دکان شروع کھولی۔ ان کا کہنا ہے "میں کوٹ بنانے میں اچھا تھا۔ میں ہندی اور انگریزی جانتا تھا۔ 1970 کی دہائی کے آخر میں متحدہ عرب امارات تیزی سے ترقی کر رہا تھا۔ نئے کاروبار کھل رہے تھے۔ 1978 میں الیکٹرا سٹریٹ پر اپنی دکان شروع کی۔ اس وقت اپنا کاروبار شروع کرنا آسان تھا‘‘۔

وہ گزرتا گیا اور انہوں نے مختلف ورائٹیز پر کام کیا اور ایک وقت آیا جب انہیں مزید عملے کی ضرورت پڑی۔

2005 میں اس نے دوسری جگہ منتقل اپنا سٹ اپ منتقل کیا۔ڈبلیو ٹی سی مال کی تعمیر کیلئے پرانی مارکیٹ کو مسمار کر دیا گیا تھا۔ اس نے ایک نئی دکان قائم کی اور 2011 تک مشہور مدینتھ زید شاپنگ سینٹر قائم ہوا تو وہ وہاں منتقل ہو اور ڈیبسٹر جینٹس ٹیلرنگ اور ٹیکسٹائل کھولا۔

انہوں نے بہت سی دوکانوں کی منجمنٹ کی اور وہ موجودہ دکان چار اسٹاف کے ساتھ چلا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’میرے پاس اب بھی عیسیٰ نام کا ایک گاہک ہے جو 1978 سے آرہا ہے‘‘۔

Source : Khaleej Times

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button