
خلیج اردو
ابوظہبی: متحدہ عرب امارات کی جانب سے غزہ کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بھیجی جانے والی آٹھویں امدادی کھیپ پیر کے روز خلیفہ پورٹ سے روانہ کی جائے گی۔
یہ امدادی مشن ‘آپریشن نوبل نائٹ 3’ کا حصہ ہے، جس میں خوراک، خیمے، کپڑے، بسترے، صفائی کا سامان اور دیگر ضروری اشیاء کے ساتھ ایک فیلڈ ہسپتال بھی شامل ہوگا جو غزہ کے صحت کے شعبے میں مدد فراہم کرے گا۔
بحری جہاز کی لوڈنگ کا عمل 16 جولائی سے شروع ہو چکا ہے۔ مشن کے رابطہ کار حمود الاِفری نے خلیج ٹائمز کو بتایا کہ جہاز 14 دن کے اندر مصر کی العریش بندرگاہ پہنچے گا، جہاں سے زمینی راستے سے ٹرکوں کے ذریعے امداد غزہ منتقل کی جائے گی۔
اس امدادی مشن میں ہلال احمر امارات، خلیفہ فاؤنڈیشن، زاید چیریٹیبل اینڈ ہیومینیٹیرین فاؤنڈیشن، دار البر سوسائٹی، انٹرنیشنل چیریٹی آرگنائزیشن (عجمان)، الاحسان چیریٹی، الاتحاد چیریٹی فاؤنڈیشن اور القاسمی فاؤنڈیشن (راس الخیمہ) شامل ہیں۔
نیا واٹر پائپ لائن منصوبہ
بدھ کے روز امارات نے جنوبی غزہ میں مقیم آبادی کے لیے سب سے بڑے صاف پانی کی فراہمی کے منصوبے کا آغاز کیا ہے۔
یہ پائپ لائن مصر میں قائم اماراتی ڈیسالینیشن پلانٹ کو جنوبی غزہ کے خان یونس اور رفح کے درمیان واقع بے گھر افراد کے علاقے سے جوڑے گی، جس کے ذریعے ہر فرد کو یومیہ 15 لیٹر صاف پانی مہیا کیا جائے گا۔ اس منصوبے سے تقریباً 6 لاکھ افراد مستفید ہوں گے۔
محاصرہ اور قحط کی صورتحال
اپریل میں اقوام متحدہ کے ادارے ورلڈ فوڈ پروگرام اور ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی (UNRWA) نے خبردار کیا تھا کہ غزہ میں خوراک کے ذخائر مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں جبکہ سرحدوں پر امدادی سامان داخلے کی اجازت کا منتظر ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق جون میں اسرائیل نے صرف 6 ہزار ٹن گندم آٹے کی اجازت دی، جبکہ فوری طور پر 10 ہزار ٹن کی اشد ضرورت ہے تاکہ غذائی قلت اور بھوک سے نمٹا جا سکے۔
سرحدی بندشوں اور اسرائیلی پابندیوں نے امداد کی فراہمی کو شدید متاثر کیا ہے، جبکہ فلسطینی صحافیوں کے مطابق غزہ میں آٹا، ڈبہ بند خوراک، سبزیاں اور دیگر اشیائے خوردونوش کی شدید قلت ہے۔







