
خلیج اردو
بھارت کی جانب سے سونے، چاندی اور قیمتی دھاتوں پر درآمدی ڈیوٹی 6 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کیے جانے کے بعد دبئی میں طلائی زیورات کی طلب میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
دبئی کے جیولرز کے مطابق بھارتی شہریوں، سیاحوں اور غیر مقیم بھارتیوں کی جانب سے سونے کی خریداری میں گزشتہ چند روز کے دوران 20 سے 30 فیصد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جبکہ کئی خریدار بھارت واپسی سے قبل اپنی خریداری مکمل کر رہے ہیں۔
جیولرز کا کہنا ہے کہ خاص طور پر دلہن کے زیورات، بائیس قیراط کے ڈیزائنز اور ہلکے وزن کی سرمایہ کاری والی جیولری کی طلب میں اضافہ ہوا ہے۔
بازار ذرائع کے مطابق گزشتہ دس دنوں میں دبئی میں سونے کی قیمت میں فی گرام 28 درہم سے زائد کمی ہوئی، جس کے بعد 24 قیراط سونا 547 اعشاریہ 5 درہم جبکہ 22 قیراط سونا 507 درہم فی گرام کی سطح پر ٹریڈ کرتا رہا۔
دوسری جانب بھارت میں 24 قیراط سونے کی قیمت تقریباً 606 درہم فی گرام جبکہ 22 قیراط سونے کی قیمت 555 درہم فی گرام کے برابر ریکارڈ کی گئی، جس سے دبئی اور بھارت کے درمیان قیمتوں کا فرق مزید بڑھ گیا ہے۔
جیولرز کے مطابق دبئی میں شفاف قیمتیں، خالص سونے کی یقین دہانی، متنوع ڈیزائنز اور کم میکنگ چارجز بھارتی صارفین کو متوجہ کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نئی ڈیوٹی کے بعد دبئی سے سونا خریدنے پر بھارتی خریداروں کو تقریباً 11 فیصد تک بچت ہو رہی ہے۔
متحدہ عرب امارات میں 40 لاکھ سے زائد بھارتی باشندوں کی موجودگی بھی دبئی کی گولڈ مارکیٹ کی مضبوط طلب کا ایک بڑا سبب سمجھی جاتی ہے۔







