
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں سونے میں سرمایہ کاری کرنے والے رہائشی اور سرمایہ کار سال 2025 کے دوران نمایاں طور پر فائدے میں رہے، جہاں ایک سال کے اندر فی گرام قیمت میں تقریباً دو تہائی یعنی 200 درہم سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ یکم جنوری 2025 کو 24 قیراط سونے کی قیمت 318 درہم فی گرام تھی جو 31 دسمبر 2025 کو بڑھ کر 520 درہم فی گرام تک پہنچ گئی، یوں ایک سال میں 202 درہم فی گرام اضافہ ہوا جو 63.5 فیصد بنتا ہے۔
اسی طرح دبئی اور یو اے ای میں 22 قیراط سونے کی قیمت میں بھی 2025 کے دوران 187 درہم فی گرام اضافہ دیکھا گیا۔ سال کے آغاز پر 22 قیراط سونا 294.5 درہم فی گرام میں دستیاب تھا جبکہ سال کے اختتام پر اس کی قیمت 481.5 درہم فی گرام تک پہنچ گئی، جس میں اضافہ بھی 63.5 فیصد رہا۔
دیگر اقسام میں 21 قیراط سونے کی قیمت نے گزشتہ 12 ماہ میں 176.75 درہم فی گرام کا اضافہ کیا۔ سال کے آغاز پر 21 قیراط سونا 285 درہم فی گرام تھا جو 31 دسمبر 2025 کو 461.75 درہم فی گرام پر بند ہوا، جس سے تقریباً 62 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا۔ اسی طرح ایک اور درجہ بندی میں سونے کی قیمت 244.5 درہم سے بڑھ کر 395.75 درہم فی گرام تک جا پہنچی۔
نئی اور نسبتاً سستی قسم 14 قیراط سونا، جو 29 نومبر کو یو اے ای میں متعارف کرایا گیا تھا، اس کی قیمت میں بھی 2.3 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 308.75 درہم فی گرام تک پہنچ گیا۔
ماہرین کے مطابق گزشتہ چند برسوں سے سونے کی قیمتوں میں تیزی کی بڑی وجوہات میں مرکزی بینکوں کی جانب سے مسلسل خریداری، امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں کمی، مشرق وسطیٰ اور دیگر خطوں میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی شامل ہیں۔
سینچری فنانشل کے چیف انویسٹمنٹ آفیسر وجے ولیچا کا کہنا ہے کہ 2025 قیمتی دھاتوں کے لیے ایک تاریخی سال ثابت ہوا، جہاں سونا اور چاندی نے دیگر مالیاتی منڈیوں کے مقابلے میں کہیں بہتر کارکردگی دکھائی۔ ان کے مطابق سونے میں ماہانہ بنیادوں پر مسلسل اضافہ دیکھا گیا، جبکہ ستمبر سال کا نمایاں ترین مہینہ رہا جہاں 11.94 فیصد اضافہ ہوا۔ جنوری میں 6.60 فیصد اور مارچ میں 9.31 فیصد کی مضبوط تیزی بھی ریکارڈ کی گئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ سونا 12 میں سے 11 مہینوں میں منافع میں رہا اور صرف جولائی میں معمولی 0.40 فیصد کمی دیکھی گئی، جبکہ مرکزی بینکوں کی جانب سے ذخائر میں سونے کی مسلسل شمولیت اور ای ٹی ایفز میں سرمایہ کاروں کی دلچسپی نے بھی قیمتوں کو سہارا دیا، جہاں گولڈ بیکڈ فنڈز میں 1.56 کروڑ اونس کی خالص سرمایہ کاری ریکارڈ کی گئی۔







