متحدہ عرب امارات

یو اے ای دنیا کا چوتھا بڑا اسٹیٹ سرمایہ کار بن گیا، اثاثوں کا حجم 10.75 ٹریلین درہم تک پہنچ گیا

خلیج اردو
عالمی ادارے گلوبل ایس ڈبلیو ایف کی جانب سے جاری کردہ 2026 کی سالانہ رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات کے سرکاری ملکیتی سرمایہ کار اداروں کے زیرِانتظام اثاثوں کا مجموعی حجم 2.931 ٹریلین ڈالر یعنی 10.75 ٹریلین درہم تک پہنچ گیا ہے، جس کے بعد یو اے ای دنیا کا چوتھا امیر ترین اسٹیٹ سرمایہ کار ملک بن گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکہ 13.2 ٹریلین ڈالر کے اثاثوں کے ساتھ سرفہرست ہے، اس کے بعد چین، جاپان، یو اے ای اور ناروے کا نمبر آتا ہے، جبکہ اس فہرست میں خودمختار دولت فنڈز، پبلک پنشن فنڈز اور مرکزی بینک شامل ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یو اے ای کے سب سے بڑے سرکاری اداروں میں ابو دھابی انویسٹمنٹ اتھارٹی سرفہرست ہے جس کے زیرِانتظام اثاثے 1.18 ٹریلین ڈالر ہیں، اس کے بعد انویسٹمنٹ کارپوریشن آف دبئی، مبادلہ، اے ڈی کیو، امارات انویسٹمنٹ اتھارٹی، دبئی انویسٹمنٹ فنڈ اور دبئی ہولڈنگ شامل ہیں، جو ملک کی مجموعی مالی طاقت میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

اکتوبر 2024 میں گلوبل ایس ڈبلیو ایف کی فرسٹ سٹی رینکنگ کے مطابق ابو دھابی کو دنیا کا امیر ترین شہر قرار دیا گیا تھا، جہاں مختلف خودمختار دولت فنڈز کے زیرِانتظام اثاثوں کا حجم 1.7 ٹریلین ڈالر تک پہنچ چکا ہے، جس کے باعث شہر کو کیپیٹل آف دی کیپیٹل کا اعزاز دیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق یو اے ای 2025 میں خودمختار فنڈز کی سرمایہ کاری حاصل کرنے والا پانچواں بڑا ملک بھی رہا، جہاں 9.9 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری آئی، جو 2024 کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔ عالمی سطح پر امریکہ، برطانیہ، جرمنی اور کینیڈا سرمایہ کاری حاصل کرنے والے سرفہرست ممالک میں شامل رہے۔

گلوبل ایس ڈبلیو ایف کا کہنا ہے کہ 2025 کے دوران عالمی مالیاتی منڈیوں میں تیزی اور بڑے معاہدوں کی وجہ سے اسٹیٹ سرمایہ کار اداروں کے اثاثوں میں نمایاں اضافہ ہوا، جبکہ خودمختار دولت فنڈز نے دسمبر 2025 میں پہلی بار 15 ٹریلین ڈالر کی تاریخی سطح عبور کی۔ رپورٹ کے مطابق پبلک پنشن فنڈز اور مرکزی بینکوں کے ساتھ مل کر یہ ادارے اس وقت 60 ٹریلین ڈالر کے اثاثے اور ذخائر سنبھال رہے ہیں، جو 2030 تک بڑھ کر تقریباً 80 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اسٹیٹ سرمایہ کار اداروں کے مجموعی اثاثوں کا بڑا حصہ ایشیا، شمالی امریکا، یورپ اور مشرقِ وسطیٰ میں مرکوز ہے، جبکہ آنے والے برسوں میں خودمختار دولت فنڈز کی رفتار دیگر اداروں کے مقابلے میں زیادہ تیز رہنے کا امکان ہے، جس سے ایشیا اور مینا خطے کا عالمی مالی وزن مزید بڑھ سکتا ہے۔

UAE becomes world’s 4th largest state investor with Dh10.75 trillion assets

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button