متحدہ عرب امارات

دہلی پولیس نے ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ کے پارلیمنٹ مارچ کی اجازت سے انکار کر دیا، خلاف ورزی پر قانونی کارروائی کی وارننگ

خلیج اردو

بھارت کی دہلی پولیس نے واضح کیا ہے کہ 20 جولائی کو پارلیمنٹ کی جانب مجوزہ مارچ کے لیے نہ کوئی اجازت طلب کی گئی ہے اور نہ ہی کوئی اجازت دی گئی ہے۔ مارچ سے متعلق خبروں کے بعد پولیس نے عوامی مشاورتی ہدایت جاری کرتے ہوئے شہریوں کو غیر مجاز اجتماعات سے دور رہنے کی اپیل کی ہے۔

پولیس کے مطابق نئی دہلی ضلع میں بھارتیہ نیا سنہتا (بی این ایس ایس) کی دفعہ 163 کے تحت پابندی کا حکم نافذ ہے، جس کے تحت احتجاجی مارچ، جلوس، مظاہروں اور پانچ یا اس سے زیادہ افراد کے اجتماعات پر پابندی عائد ہے۔

دہلی پولیس کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ کا اجلاس شروع ہونے کے باعث دارالحکومت میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ عوامی تحفظ، اہم شخصیات کی سکیورٹی اور سرکاری تنصیبات کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ پابندی کے احکامات کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

دوسری جانب کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے آج جنتر منتر سے پارلیمنٹ تک مارچ کی کال دی تھی۔ پارٹی نے بھوک ہڑتال پر موجود سماجی کارکن سونم وانگچک سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نریندر مودی سے مستعفی ہونے کا مطالبہ بھی کیا۔

رپورٹس کے مطابق 59 سالہ سونم وانگچک 28 جون سے امتحانی پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر احتجاجاً بھوک ہڑتال کر رہے تھے۔ ان کی طبیعت بگڑنے پر انہیں بھوک ہڑتال کے اکیسویں روز اسپتال منتقل کر دیا گیا، جس کے بعد کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھجیت دیپیکے نے بھی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کر دی۔

سونم وانگچک نے اپنی اہلیہ کے ذریعے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری پیغام میں مجوزہ مارچ کو "بھارت کی دوسری تحریکِ آزادی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد ناانصافی، خصوصاً امتحانی پرچوں کے مبینہ لیک، اور خوف سے آزادی حاصل کرنا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button