
خلیج اردو
دوحہ: اسرائیلی جارحیت کے پس منظر میں خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کی سپریم کونسل نے پیر 15 ستمبر کو ہنگامی اقدامات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اعلان کیا کہ رکن ممالک قطر کے دفاع، خودمختاری، استحکام اور سلامتی کے تحفظ کے لئے اپنی تمام صلاحیتیں بروئے کار لائیں گے۔
کونسل نے واضح کیا کہ جی سی سی چارٹر اور مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت کسی ایک رکن ملک پر حملہ تمام رکن ممالک پر حملہ تصور ہوگا اور قطر کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اس کے دفاع کے لئے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔
علاقائی دفاع کو مضبوط بنانے کے لئے کونسل نے متحدہ عسکری کمان کو ہدایت کی کہ فوری طور پر مشترکہ دفاعی نظام کو فعال کرنے کے لئے عملی اقدامات کرے اور خلیجی دفاعی صلاحیتوں کو مکمل طور پر تعینات کرے تاکہ کسی بھی جارحیت کے خلاف مربوط اور مؤثر ردعمل یقینی بنایا جا سکے۔
عرب-اسلامی سربراہ اجلاس میں کونسل نے عالمی برادری اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ قطر کی خودمختاری کے تحفظ اور اسرائیلی جارحیت کو روکنے کے لئے فوری اور مؤثر اقدامات کرے۔
کونسل نے اسرائیلی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا کہ یہ کارروائیاں خطے کے امن اور سلامتی کو خطرے میں ڈالتی ہیں اور اسرائیل کے ساتھ موجودہ معاہدوں کو بھی غیر مستحکم کر سکتی ہیں۔ مسلسل بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی عالمی امن و سلامتی کے لئے سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔
کونسل نے قطر کے سیکیورٹی اور سول ڈیفنس اداروں کی بروقت کارروائی کو سراہا اور کہا کہ اس حملے نے قطر کی غزہ میں جنگ بندی، قیدیوں کی رہائی اور فلسطینی عوام کے لئے انسانی امداد کی کوششوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے۔
سپریم کونسل نے دنیا کے امن پسند ممالک سے اپیل کی کہ وہ قطر کے خلاف اسرائیلی جارحیت اور غزہ میں جاری نسل کشی کی مذمت کریں اور انسانی ہمدردی کے تقاضوں کے تحت آبادیوں کی جبری بے دخلی، بھوک، امدادی سامان کی راہ میں رکاوٹیں، صحافیوں، طبی ٹیموں اور فلاحی اداروں پر حملوں جیسے جرائم کے مرتکب عناصر کو جوابدہ ٹھہرایا جائے۔







