
خلیج اردو
ابوظبی: متحدہ عرب امارات میں جانوروں سے محبت کرنے والے سات افراد نے مثالی جذبہ دکھاتے ہوئے ایک بلی کے بچے کو نالے سے بچا لیا جو تین دن سے خوراک اور پانی کے بغیر وہاں پھنسا ہوا تھا۔ یہ کامیاب ریسکیو آپریشن تقریباً 18 گھنٹے طویل رہا، جس میں مختلف امارات سے بار بار سفر کیا گیا۔
جرمنی سے آئے ایک سیاح فرڈیننڈ، جو اپنی سالگرہ کے موقع پر آدھی رات کے وقت ابوظبی میں آوارہ بلیوں کو خوراک دے رہے تھے، اچانک ایک نالے سے بلی کے بچے کی کراہتی آوازیں سنیں۔ جب انہوں نے مقامی رہائشی سے اس بارے میں پوچھا تو معلوم ہوا کہ یہ آوازیں گزشتہ تین دن سے سنائی دے رہی ہیں۔
فرڈیننڈ نے فوراً دبئی کی معروف بلی ریسکیو ورکر دینا، جو "DubaiStreetKitties” انسٹاگرام پیج چلاتی ہیں، کو پیغام بھیجا۔ اس پیغام کے بعد جمعہ 16 مئی کی رات 11 بجے پورے ملک کے بلیوں سے محبت کرنے والے افراد حرکت میں آ گئے۔
ریسکیو کا آغاز اور مشکلات
دبئی سے کرن انگلینڈ نے اطلاع ملتے ہی اپنی سیڑھیاں لے کر روانگی کی تیاری کی اور رات 2 بجے کے قریب چھوٹا سا ریسکیو گروپ موقع پر پہنچ گیا۔ بلی کا بچہ پائپ کے اندر ڈرا ہوا تھا اور باہر آنے سے گھبرا رہا تھا۔ کرن نے نالے میں اتر کر اس میں موجود گندے پانی کو نکالنا شروع کیا تاکہ بلی اگر نکلے تو ڈوبنے کا خطرہ نہ ہو۔
پانچ گھنٹوں کی کوشش کے بعد نالہ تو خشک ہو گیا لیکن بلی اب بھی باہر آنے سے گھبرا رہی تھی۔ اس موقع پر ریسکیو ٹیم کے ارکان نے کچھ دیر آرام کرنے کا فیصلہ کیا۔ جانے سے قبل ایک اور ریسکیور کالینا نے تین گھنٹے کی محنت سے تولیے اور کپڑوں کے اسٹینڈ سے ایک عارضی سیڑھی بنائی تاکہ بلی اس کے ذریعے باہر آ سکے۔
ابوظبی کے مقامی رہائشی گالینا اور ان کے شوہر نے بلی پر نظر رکھنے کی ذمہ داری سنبھالی اور ہر دو گھنٹے بعد اسے چیک کیا، لیکن بلی باہر نہ نکلی۔
بلدیہ کی مدد اور کامیابی
بالآخر ٹیم کے ایک رکن نے ابوظبی بلدیہ سے رابطہ کیا جس نے فوری طور پر ایک ٹیم بھیجی۔ گالینا کے مطابق بلدیہ کی ٹیم نے صرف پانچ منٹ میں بلی کو بحفاظت نکال لیا۔
بعد ازاں گالینا، ان کے شوہر اور کرن بلی کے بچے کو دبئی کے Paws and Claws کلینک لے گئے، جہاں اس کا مکمل چیک اپ اور ایکسرے مفت کیا گیا۔ خوش قسمتی سے بلی صحت مند نکلی، اور حیرت انگیز طور پر تین دن کی قید کے باوجود اسے زیادہ پانی کی کمی بھی نہیں تھی۔
‘لکی’ کا نیا سفر
فرڈیننڈ، جس دن بلی ملی، وہی ان کی سالگرہ تھی، اور اسی دن سے اس بچے سے ان کا رشتہ بن گیا۔ انہوں نے کہا، "اس بچے نے بغیر خوراک اور پانی کے 3 سے 4 دن گزارے، یہ بہت مضبوط ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ وہ روز سڑک پر زندہ رہنے کے لیے لڑتا رہے۔ میں اسے ایک اچھے خاندان میں بہترین زندگی دینا چاہتا ہوں۔ میں نے اس کا نام ‘لکی’ رکھا ہے۔ وہ اب کرن کے پاس ہے، اور جب تھوڑا بڑا ہو جائے، ویکسین اور مائیکروچپ مکمل ہو جائیں تو میں اسے جرمنی لے جاؤں گا۔”
بلیوں کی فلاح کے لیے آگاہی کی ضرورت
کرن کے مطابق جس مقام سے لکی ملا وہاں بڑی تعداد میں آوارہ بلیاں موجود ہیں، اور وہاں Trap-Neuter-Return (TNR) پروگرام سے متعلق آگاہی کی اشد ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لیے رواں سال "اینمل ویلفیئر ابوظبی” (AWAD) گروپ قائم کیا گیا ہے، جو بلیوں کو محفوظ رکھنے کے لیے سرگرم ہے۔ ان کی مہم کے تحت بلیوں کو خوراک کی جگہوں سے پکڑ کر ان کی نس بندی، ویکسینیشن، اور مائیکروچپنگ کر کے دوبارہ چھوڑا جاتا ہے تاکہ ان کی آبادی کو کنٹرول کیا جا سکے۔







