
خلیج اردو
دبئی میں ایئر ٹیکسی سروس کے آغاز سے پہلے یہ سوال اہم بنتا جا رہا ہے کہ آخر ایئر ٹیکسی پائلٹ کیسے بنا جا سکتا ہے۔ دبئی ایئرشو میں جوبی ایوی ایشن کے تجربہ کار ٹیسٹ پائلٹ پیٹر وِزر وِلسن نے اس نئے شعبے کی تمام تفصیلات بیان کیں۔ وِلسن کا تعلق فائٹر جیٹ، ہیلی کاپٹر اور ایف-35 پروگرام جیسے اعلیٰ ترین ایوی ایشن شعبوں سے رہا ہے، اور اب وہ الیکٹرک ایئر ٹیکسی ٹیکنالوجی کے مستقبل کو تشکیل دینے میں مصروف ہیں۔
وِلسن کے مطابق ایئر ٹیکسی اڑانا روایتی فضائی سفر سے بالکل مختلف طرزِ زندگی پیش کرتا ہے۔ پائلٹس روزانہ گھر واپس آ سکتے ہیں، لمبے روٹس یا گھنٹوں کی پروازیں نہیں ہوتیں، اور ہر فلائٹ چھوٹی مگر انتہائی دلچسپ ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جوبی ایئر ٹیکسی میں ٹیک آف کے فوراً بعد لینڈنگ کا وقت آ جاتا ہے، جس سے یہ نظام نوجوان پائلٹس کے لیے نہایت دلکش بنتا ہے۔
وِلسن نے وضاحت کی کہ ایف-35 جیسے جنگی طیاروں سے الیکٹرک ای وی ٹول ٹیکنالوجی کی طرف آنا ان کے لیے ایک فطری قدم تھا، کیونکہ وہ ہمیشہ جدید ٹیکنالوجی کے قریب رہنا چاہتے تھے۔ ان کے مطابق جوبی کا ایئر ٹیکسی سسٹم جتنا جدید ہے، اسے چلانا اتنا ہی آسان ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مختلف ایئرکرافٹ اڑانے کا تجربہ رکھنے کے بعد ایئر ٹیکسی ان کے لیے نہایت سادہ محسوس ہوئی، یہاں تک کہ وہ کہتے ہیں کہ "کوئی بھی اس طیارے کو چلانا سیکھ سکتا ہے۔”
جوبی کے ٹیسٹ پروگرام میں دو اقسام کے فلائنگ آورز ہوتے ہیں: ریموٹ فلائٹ اور پائلٹ کے ساتھ فلائٹ۔ وِلسن اب تک تقریباً 200 گھنٹے ریموٹ فلائنگ اور 20 گھنٹے پائلٹ کے ساتھ پرواز مکمل کر چکے ہیں۔ ریموٹ فلائٹ کو ٹیکنالوجی کی سکیورٹی کے لیے بنیادی مرحلہ قرار دیا جاتا ہے تاکہ ممکنہ خطرات کو کم کیا جا سکے۔
اپنی پہلی انسانی پرواز کے بارے میں وِلسن کا کہنا تھا کہ یہ ایک ناقابلِ فراموش تجربہ تھا، اگرچہ اصل طیارہ سمیولیٹر جیسا ہی محسوس ہوا، تاہم حقیقی پرواز کی آواز اور ماحول مختلف تھے۔
ایئر ٹیکسی پائلٹ بننے کے خواہشمند افراد کے لیے وِلسن نے مکمل راستہ بھی بتا دیا۔ سب سے پہلے کمرشل پائلٹ سرٹیفکیٹ حاصل کرنا ضروری ہے، جس کے لیے کم از کم 500 فلائنگ آورز درکار ہوتے ہیں۔ اس کے بعد امیدوار جوبی آکر ایئر ٹیکسی S4 کی تربیت لے سکتا ہے، جو تقریباً 25 گھنٹوں میں مکمل ہو جاتی ہے۔ وِلسن کے مطابق سمیولیٹر میں تو کوئی بھی شخص محض پانچ منٹ میں بنیادی پرواز سیکھ سکتا ہے۔







