
دنیا بھر میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے باعث ہونے لاک ڈاؤن سے بہت سارے کاروبار بند ہوئے ہیں جس کے نتیجے میں بہت سارے لوگ نوکریوں سے فارغ کیے گئے ہیں۔ متحدہ عرب امارات جیسے مضبوط معیشت میں بھی بہت سارے کاروبار متاثر ہوئے اور بہت سارے لوگوں کو نوکریوں سے فارغ کیا گیا ہے۔ نوکریوں سے فارغ ہونے والے یا نوکری چھوڑ کر دوسری نوکری تلاش کرنے والوں کو نوکری کے اختتام پر کچھ واجبات ادا کیے جاتے ہیں جنہیں گریجوئٹی (Gratuity) کہا جاتا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے لوگوں کو مستقبل میں مالی پریشانی سے بچنے کے لیے نوکری کے اختتام پر ملنے والی اس اضافی رقم یا پنشن کو انویسٹ (سرمایہ کاری) کرنا چاہیے۔
اس مضمون میں گریجوئٹی یا پنشن کو بہتر طریقے سے انویسٹ کرنے کےلیے مالیات کے ماہرین کی آراء کا احاطہ کیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق آپ کتنی سرمایہ کاری کرتے ہیں اس کا انحصار آپ کی عمر اور خطرہ مول لینے کی صلاحیت پر ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ آپ کو کہیں بھی سرمایہ کاری کرنے سے پہلے تقریبا 6 ماہ تک کے اخراجات کے لیے پیسوں کی بچت کرنی چاہیے تاکہ مشکل کے وقت وہ پیسہ آپ کے کام آ سکے۔ اگر آپ کے پاس تقریبا 6 ماہ کی بچت نہیں ہے تو سب سے پہلے 6 ماہ تک پیسے جمع کریں۔ پھر آپ مندرجہ ذٰیل میں اثاثوں میں سے کسی ایک میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں:
- آپ اپنے بچت کیے ہوئے پیسوں کو ایکوٹی (Equities) میں انویسٹ کر سکتے ہیں
- یا بانڈ خرید سکتے ہیں
- سٹاک ایکسچینج میں تجارتی فنڈز میں یا اجناس میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں
- رئیل اسٹیٹ میں انویسٹ کر سکتے ہیں
- یا آپ ان پیسوں کو بینک میں فکسڈ ڈبازٹ کے کھاتوں میں رکھ سکتے ہیں
جن اثاثوں میں آپ کو سرمایہ کاری نہیں کرنی چاہیئے انکی فہرست درج ذیل ہے:
- آپ کو سونے میں سرمایہ کاری نہیں کرنی چاہیے
- کرپٹوکرنسی میں
- اور کسی نئے شروع ہونے والے کاروبار میں سرمایہ کاری کرنے سے بچنا چاہئے
وہ کونسے اثاثہ جات ہیں جن میں سرمایہ کاری یا انویسٹ کرنے سے آپ کو زیادہ منافع ہو سکتا ہے؟
اگر آُپ اس وقت 20 سے 30 سال کے درمیان یا 30 سال سے اوپر ہیں تو آپ ایسی اجناس یا ایکوٹیز میں انویسٹ کرنا چاہیے جو غیر مستحکم ہیں لیکن زیادہ منافع دیتی ہیں۔
1۔ تیل میں سرمایہ کاری کریں
جیسا کہ آُپ اس وقت تیل میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں کیونکہ اس وقت تیل کی قیمتیں کم ہیں۔
2۔ اوبر یا نیٹ فلکس
دوسرا جو لوگ ایکوٹیز میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں انہیں اوبر(UBER) اور نیٹ فلکس (Netflix) جیسی کمپنیوں کا انتخاب کرنا چاہئے۔ اور انہیں سناپ چیٹ اور ٹوئیٹر کو مد نظر رکھنا چاہیئے۔
3۔ گوگل یا مائیکرو سافٹ
تیسرا اگر آُپ ملازمت سے ریٹائر ہوچکے ہیں اور اپنی پنشن یا گیجوئٹی کو کسی منافع بخش کاوربار میں لگنا چاہتے ہیں تو مستحکم کمپنیوں جیسا کہ گوگل، مائیکروسافٹ یا ایپل میں سرمایہ کاری کریں۔ جہاں سے انویسٹمنٹ پر 4-5 فیصد تک منافع کمایا جا سکتا ہے۔
4۔ رئیل اسٹیٹ
چھوتا نمبر پر رئیل اسٹیٹ آتا ہے۔ سرمایہ کاری کے ماہرین کے مطابق آپ کو اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد جائیداد کی خریدوفروخت یعنی رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔
دبئی رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری پر 5.5 فیصد خالص منافع دیتا ہے۔ آپ کوئی چھوٹا اسٹوڈیو یا ایک کمرے کا فلیٹ خرید سکتے ہیں کیونکہ ایسی چھوٹی جگہوں کو کرایہ پر چڑھانا مشکل نہیں ہوتا ۔
5۔ بانڈز
آپ اپنی پنشن یا ملازمت کے آخر میں ملنے والی رقم بانڈز میں انویسٹ کر سکتے ہیں۔ بانڈز میں سرمایہ کاری کرنا قدرے محفوظ ہے۔ لیکن اس کی کچھ قسمیں ہیں جن کا آُپ خیال رکھنا ہوگا۔ مثلا اگر آپ ریٹائرمنٹ کے قریب ہیں تو A یا AA درجے کے بانڈز کا انتخاب کریں۔ اس کے علاوہ آپ اپنی عمر کے حساب سے AAA ، BBB یا جنک بانڈز میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں۔ بانڈز سے آُ پ 8 سے 9 فیصد تک منافع ہو سکتا ہے۔
6۔ ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز (EFTs)
اگر آپ ریٹائر ہو رہے ہیں تو آپ کو ایسے EFTs کا انتخاب کرنا چاہیے جو زیادہ منافع دیں۔ جیساکہ ایپل، مائیکروسافٹ وغیرہ۔
آخر میں امارات میں مقیم پاکستانیوں کے لیے اہم مشورہ:
سنچری فنانشل بینک کے چیف انویسٹمنٹ آفیسر، وجے ولیچا کہتے ہیں کہ امارات زیادہ تر پاکستانی، بنگلہ دیشی اور بھارتی مقیم ہیں۔ جن کے اپنے ملکوں کی کرنسی کی دن بدن قدر کم ہوتی جا رہی ہے۔ ایسے یہ لوگ امارات سے کمائے ہوئے پیسے اپنے ملک جا کر فکسڈ ڈپاذٹ کےکھاتوں میں رکھوا دیتے ہیں۔ وجے کے مطابق یہ منافع بخش عمل نہیں ہے کیونکہ فکسڈ ڈپازٹ پر ملنے والا منافع کرنسی کم ہوتی قدر کو پورا نہیں کر پاتا ہے۔ لہذا لوگ حقیقت میں نقصان اٹھا رہے ہوتے ہیں۔ اس لیے انہیں چاہیے کہ اپنے پیسوں کو ڈالر میں تبدیل کروا کے فکسڈ ڈپازٹ کروانا اپنی ملکی کرنسی میں ڈپازٹ کروانے سے کہیں زیادہ بہتر ہوگا۔







