
خلیج اردو
ابوظہبی: متحدہ عرب امارات میں گیمنگ انڈسٹری میں خواتین کی شمولیت تیزی سے بڑھ رہی ہے، جہاں وہ صرف کھلاڑیوں کے طور پر ہی نہیں بلکہ پروگرامر، ڈیزائنر اور کمیونٹی بلڈرز کی حیثیت سے بھی نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں۔ اماراتی اسٹریمر اور ایسپورٹس ایتھلیٹ امنہ العامری عرف "موکی” نے 2020 میں دبئی میں خواتین کے لئے منعقدہ ایک ٹورنامنٹ میں شمولیت کو اپنی پیشہ ورانہ گیمنگ کی زندگی کا اہم موڑ قرار دیا۔
دوسری جانب یوبی سوفٹ ابوظہبی کی پروگرامر ریم فاخوری آن لائن گیمز کے بیک اینڈ سسٹمز پر کام کرتی ہیں تاکہ لاکھوں کھلاڑیوں کے لئے کھیل کا تجربہ آسان اور تیز تر بنایا جا سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ہمیشہ یہ جاننے کے لئے پُر تجسس رہیں کہ کسی سافٹ ویئر یا گیم کے پسِ پردہ نظام کیسے کام کرتے ہیں۔
یوبی سوفٹ ہی کی گیم ڈیزائنر ادیتی مونگا کا کہنا ہے کہ کھیل محض کہانی نہیں بلکہ کھلاڑی کو فیصلہ سازی کا اختیار دیتے ہیں۔ وہ کھیل میں حقیقی تجربات شامل کرنے کے لئے خود بھی مختلف سرگرمیوں جیسے تیراکی اور ڈائیونگ سیکھتی ہیں تاکہ ڈیزائن زیادہ حقیقت سے قریب ہو۔
ادھر ابو ظہبی کے محکمہ ثقافت و سیاحت کی مشیر عزیزہ الاحمدی نے کہا کہ امارت نے خواتین کی گیمنگ انڈسٹری میں شمولیت کے لئے واضح حکمتِ عملی وضع کر رکھی ہے اور اس ضمن میں تربیتی پروگرام اور یونیورسٹی کورسز بھی شروع کیے جا رہے ہیں۔
این ویڈیا جیفورس ایم ای این اے کی کمیونٹی مینیجر استقلال الحمیدی کے مطابق گیمنگ صرف ٹیکنالوجی نہیں بلکہ کمیونٹی اور ذوق سے جڑی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی جینر کی کامیابی کا انحصار کھلاڑیوں کی ترجیحات اور کمیونٹی انگیجمنٹ پر ہے۔







