متحدہ عرب امارات

آئی ایم ایف کا ‘معاشی ایجنڈا’ پاکستان کے حوالے: حکومت کے لیے سخت اہداف مقرر، بجٹ کی تیاری آئی ایم ایف کے ہاتھ میں

خلیج اردو
انٹرنیشنل مونیٹری فنڈ (IMF) نے حکومت پاکستان کے ساتھ "میمورنڈم آف اکنامک اینڈ فنانشل پالیسیز” (MEFP) کا انتہائی اہم ڈرافٹ شیئر کر دیا ہے، جو پاکستان کے معاشی مستقبل اور اگلے قرضہ پروگرام کے لیے سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس ڈرافٹ پر دونوں فریقین کے درمیان اتفاقِ رائے پیدا ہونے کے فوراً بعد اسٹاف لیول معاہدہ طے پا جائے گا، جس کے لیے حکومت پاکستان پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔

ایم ای ایف پی (MEFP) کے سخت اہداف اور وزارتوں کو ٹاسک: اس ڈرافٹ میں آئی ایم ایف نے پاکستان کی معیشت کے تمام اہم شعبوں کے لیے سخت اہداف مقرر کیے ہیں۔ وزارتِ خزانہ، وزارتِ توانائی، وزارتِ پٹرولیم اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کو اپنی کارکردگی میں نمایاں بہتری لانے اور آئی ایم ایف کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے کا ٹاسک دیا گیا ہے۔

آئی ایم ایف وفد کی آمد اور بجٹ پر مکمل کنٹرول: آئی ایم ایف کا وفد بجٹ پر مذاکرات کے لیے آئندہ ماہ کے آخری ایام میں پاکستان پہنچے گا۔ اس بار، آئی ایم ایف کا ٹیکنیکل مشن نہ صرف بجٹ پر مذاکرات کرے گا بلکہ آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی تیاری میں بھی مکمل معاونت فراہم کرے گا۔

  • آئی ایم ایف کا بجٹ: یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ 2026-27 کے لیے بجٹ تمام تر آئی ایم ایف کے تخمینوں اور اسٹڈی کے مطابق بنایا جائے گا، جس کا مطلب ہے کہ پاکستان کا اگلا بجٹ مکمل طور پر آئی ایم ایف کے "مشوروں” پر مبنی ہوگا۔

  • تکنیکی وفد کا قیام: بجٹ پر تیاری کے لیے آئی ایم ایف کا تکنیکی وفد مئی کے دوران تک پاکستان میں قیام کرے گا، تاکہ بجٹ کی تیاری کے ہر مرحلے کی نگرانی کر سکے۔

حکومت پاکستان کے لیے یہ صورتحال ایک بڑی آزمائش ہے، کیونکہ آئی ایم ایف کے سخت اہداف کو پورا کرنا اور ان کی مرضی کے مطابق بجٹ بنانا عوامی سطح پر مشکلات پیدا کر سکتا ہے، جبکہ اسٹاف لیول معاہدے کے لیے یہ سب کچھ ناگزیر ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button