متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات سے حوالگی کے بعد بھارت کے دو مطلوب ملزمان گرفتار، اربوں روپے بینک فراڈ اور جعلی پاسپورٹ اسکینڈل میں ملوث ہونے کا انکشاف

خلیج اردو
بھارت کی مرکزی تحقیقاتی ایجنسی سنٹرل بیورو آف انویسٹیگیشن نے اعلان کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات سے حوالگی کے بعد دو انتہائی مطلوب ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق ملزم کملیش پاریکھ ایک بڑے بینک فراڈ کیس میں مطلوب تھا، جس کا تعلق کولکتہ کی کمپنی شری گنیش جیولری ہاؤس (انڈیا) لمیٹڈ سے ہے۔

بیان کے مطابق کملیش پاریکھ کو یکم مئی کو حراست میں لیا گیا، جب اسے متحدہ عرب امارات میں انٹرپول کے ریڈ نوٹس کے تحت تلاش کر کے گرفتار کیا گیا۔ قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد اسے بھارتی حکام کے حوالے کیا گیا۔

تحقیقات کے مطابق ملزم 2016 سے مفرور تھا اور اس پر الزام ہے کہ اس نے دیگر افراد کے ساتھ مل کر اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی قیادت میں بینکوں کے ایک بڑے کنسورشیم کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا۔

سی بی آئی کے مطابق کمپنی کے منتظمین نے بیرون ملک کمپنیوں اور کاروباری نیٹ ورک کے ذریعے رقوم کا غلط استعمال کیا۔ اس کیس میں 25 بینکوں کو مجموعی طور پر تقریباً 226 ارب بھارتی روپے (تقریباً 10 ارب درہم) کا نقصان پہنچایا گیا۔

ملزم کے خلاف 2019 میں ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کیا گیا تھا جبکہ 2022 میں باقاعدہ فرد جرم عائد کی گئی۔ اسے دو مئی کو نئی دہلی کی عدالت میں پیش کیا جائے گا، جس کے بعد مزید کارروائی کے لیے کولکتہ منتقل کیا جائے گا۔

دوسری جانب ایک اور ملزم آلوک کمار عرف یشپال سنگھ کو بھی متحدہ عرب امارات سے گرفتار کر کے بھارت منتقل کیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق آلوک کمار جعلی دستاویزات کے ذریعے پاسپورٹ حاصل کرنے، دھوکہ دہی، جعلسازی اور مجرمانہ سازش جیسے سنگین جرائم میں ملوث تھا۔ اس کے خلاف مقدمہ ہریانہ پولیس نے درج کیا تھا۔

تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ وہ ایک منظم گروہ کا اہم رکن تھا، جو جعلی شناخت اور پتوں کے ذریعے افراد کو بھارتی پاسپورٹ حاصل کروانے میں مدد دیتا تھا، جن میں بعض افراد کا مجرمانہ ریکارڈ بھی شامل تھا۔

انٹرپول کے ریڈ نوٹس کے بعد اسے بھی متحدہ عرب امارات میں گرفتار کیا گیا اور قانونی تقاضے پورے ہونے کے بعد بھارت کے حوالے کر دیا گیا، جہاں اسے ممبئی پہنچتے ہی حراست میں لے لیا گیا۔

یہ دونوں کیسز بھارت اور متحدہ عرب امارات کے درمیان جرائم پیشہ عناصر کی گرفتاری اور حوالگی کے حوالے سے بڑھتے ہوئے تعاون کی عکاسی کرتے ہیں، جو بین الاقوامی سطح پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ہم آہنگی کو ظاہر کرتا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button