متحدہ عرب امارات

دبئی: متحدہ عرب امارات میں پہلی بار سوشل میڈیا انفلوئنسرز کو سب سے کم قابلِ اعتماد پیشہ قرار دیا گیا ہے۔

خلیج اردو
دبئی: متحدہ عرب امارات میں پہلی بار سوشل میڈیا انفلوئنسرز کو سب سے کم قابلِ اعتماد پیشہ قرار دیا گیا ہے۔ انسائٹ ڈسکوری کے ساتویں سالانہ سروے "ورسٹ ریپیوٹیشن اِن دی یو اے ای” کے مطابق 21 فیصد شرکاء نے انفلوئنسرز کو بدترین شہرت رکھنے والا طبقہ قرار دیا، جو ٹیلی مارکیٹرز، کریڈٹ کارڈ جاری کرنے والوں اور رئیل اسٹیٹ بروکرز سے بھی آگے نکل گئے۔

گزشتہ چھ سال میں زیادہ تر وقت کریڈٹ کارڈ کمپنیوں اور ریکروٹرز نے یہ فہرست میں بدترین شہرت کا درجہ حاصل کیا تھا، مگر اب یہ مقام انفلوئنسرز کو مل گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق عوام میں بڑھتی ہوئی بے اعتمادی کی بڑی وجہ شفافیت اور جواب دہی کی کمی ہے، خاص طور پر ان "فِن فلوئنسرز” کی جو غیر واضح پروموشنز اور خطرناک سرمایہ کاری کے منصوبے پیش کرتے ہیں۔

انسائٹ ڈسکوری کے سی ای او نائیجل سیلٹؤ نے کہا کہ نتائج انفلوئنسر انڈسٹری کے لیے "واضح وارننگ” ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لوگ بعض انفلوئنسرز کے رویے سے اکتاہٹ محسوس کر رہے ہیں اور غیر ریگولیٹڈ آن لائن مشوروں کے خطرات سے زیادہ باخبر ہو گئے ہیں۔

سروے کے مطابق:

* 19 فیصد نے ٹیلی مارکیٹرز اور کال سینٹرز کو بدترین شہرت والا شعبہ قرار دیا۔
* 13 فیصد نے کریڈٹ کارڈ جاری کرنے والوں کو۔
* 11 فیصد نے ریکروٹمنٹ کمپنیوں کو۔
* 8 فیصد نے رئیل اسٹیٹ ایجنٹس کو ناپسندیدہ قرار دیا۔

مختلف کمیونٹیز کی رائے میں بھی فرق پایا گیا۔ مغربی باشندوں، عرب ایکسپاٹز اور اماراتیوں نے سب سے کم اعتماد انفلوئنسرز پر ظاہر کیا، جبکہ ایشیائی باشندے زیادہ تر ٹیلی مارکیٹرز کے خلاف تھے (23 فیصد منفی رائے کے ساتھ)۔

دبئی میں 10 فیصد رہائشیوں نے رئیل اسٹیٹ ایجنٹس کو غیر مقبول قرار دیا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button