متحدہ عرب امارات

ایران اسرائیل جنگ بندی کے بعد یو اے ای میں سفری بحالی، کرایوں میں کمی سے شہریوں نے دوبارہ سفر شروع کر دیا

خلیج اردو
دبئی: ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے بعد متحدہ عرب امارات میں رہنے والے شہریوں نے دوبارہ اپنے موسم گرما کے سفری منصوبے بحال کرنا شروع کر دیے ہیں۔ ٹکٹوں کے نرخوں میں معمولی کمی نے ان شہریوں کو سکون کا سانس لینے کا موقع دیا ہے جنہوں نے حالیہ کشیدگی کے باعث اپنے سفر مؤخر کر دیے تھے۔

سیاحت کے شعبے سے منسلک ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں استحکام آتے ہی کئی خاندان آخری لمحات میں اپنے آبائی ممالک کی طرف روانہ ہو رہے ہیں جبکہ بعض افراد نے امارات کے اندر ہی مختصر قیام (staycation) کو ترجیح دی ہے۔

ٹور آپریٹر وائس فاکس ٹورازم کے سینئر مینیجر صبیر تھیکے پوراتھ ولاپل نے بتایا، "ایران اسرائیل جنگ بندی کے بعد کرایے کچھ کم ہوئے ہیں، اس لیے جن لوگوں نے پہلے بکنگ نہیں کی تھی، وہ اب کر رہے ہیں۔ کچھ نے اپنے پرانے پلان برقرار رکھے ہیں جبکہ کچھ دوبارہ بکنگ کر رہے ہیں۔”

یاد رہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے باعث نہ صرف کئی پروازیں منسوخ یا موخر ہوئیں بلکہ متعدد شہریوں نے اپنے بچوں اور بزرگوں کی حفاظت کے پیش نظر سفر مؤخر کر دیا تھا۔ خاص طور پر امریکہ کے ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملے کے بعد صورتحال انتہائی نازک ہو گئی تھی۔

جنگ بندی کے اعلان کے بعد بڑی ایئرلائنز نے فوری طور پر اپنی پروازیں بحال کر دیں جس سے مسافروں کا اعتماد بحال ہوا۔ دبئی ایئرپورٹس نے 26 جون کو اعلان کیا کہ اگلے دو ہفتے غیر معمولی طور پر مصروف رہیں گے، جب کہ 27 جون سے 9 جولائی کے درمیان 34 لاکھ سے زائد مسافروں کی آمدورفت متوقع ہے۔

5 جولائی کو سب سے زیادہ مسافروں کی روانگی کا امکان ہے۔ امارات ایئرلائن نے بھی 26 سے 30 جون کے دوران روزانہ 30 ہزار سے زائد مسافروں کے سفر کی پیش گوئی کرتے ہوئے سفری ہدایات جاری کی ہیں۔

دبئی کے رہائشی راہول آئر، جنہوں نے 30 جون کو چنئی جانے کا ارادہ کیا تھا، نے بتایا کہ "جب میزائل حملوں کی خبر آئی تو میں نے بکنگ روک دی۔ دو چھوٹے بچوں کے ساتھ میں کوئی خطرہ نہیں لینا چاہتا تھا۔ اب جنگ بندی کے بعد حالات بہتر ہوئے تو میں نے 3 جولائی کے لیے دوبارہ بکنگ کر لی۔”

دوسری جانب، کچھ افراد نے بیرونِ ملک جانے کے بجائے متحدہ عرب امارات میں ہی قیام کو ترجیح دی۔ فاطمہ سلیم، جو الشارجه کے النہدہ علاقے میں BM ٹاور کی رہائشی ہیں، نے بتایا کہ "ہم نے پاکستان کا سفر منسوخ کر دیا کیونکہ صورتحال تیزی سے بگڑ رہی تھی۔”

انہوں نے مزید کہا، "ہم نے ہمیشہ دیکھا ہے کہ یو اے ای اپنے شہریوں اور رہائشیوں کا ایمرجنسی میں خیال رکھتا ہے، اس لیے ہم نے یہیں رکنے کو ترجیح دی۔ ہو سکتا ہے فیجیرہ یا راس الخیمہ میں مختصر قیام کر لیں۔”

متحدہ عرب امارات کی بحرانوں سے نمٹنے کی صلاحیت پر اعتماد اور تحفظ کا احساس اب شہریوں کی ترجیحات میں سرفہرست آ چکا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button