متحدہ عرب امارات

ایران نے یو اے ای پر 3300 میزائل اور ڈرون داغے، بیشتر حملے شہری تنصیبات پر ہوئے

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کے صدارتی سفارتی مشیر ڈاکٹر انور قرقاش نے کہا ہے کہ ایران نے کئی ہفتوں کے دوران یو اے ای پر 3 ہزار 300 میزائل اور ڈرون داغے، جن میں سے زیادہ تر حملوں کا ہدف شہری انفراسٹرکچر تھا۔

ہِلی فورم سے خصوصی خطاب میں انور قرقاش نے بتایا کہ یو اے ای کے فضائی دفاعی نظام نے زیادہ تر میزائل اور ڈرون راستے میں ہی تباہ کردیئے۔

ان کا کہنا تھا کہ مسلسل حملوں نے نہ صرف یو اے ای کی مسلح افواج کی صلاحیتوں بلکہ ملک کی مجموعی قومی استقامت کا بھی مظاہرہ کیا۔

انور قرقاش کے مطابق میزائل فضا میں موجود ہونے کے باوجود رواں سال کی پہلی ششماہی میں یو اے ای کی غیر تیل سے متعلق بیرونی تجارت میں 13 فیصد اضافہ ہوا۔

انہوں نے کہا کہ کچھ شعبے متاثر ضرور ہوئے تاہم ملکی معیشت میں کوئی خلل نہیں آیا بلکہ مستقبل کے لیے اہم شعبوں میں بھی ترقی کا سلسلہ جاری رہا۔

بحران خطے کے جغرافیائی سیاسی منظرنامے کو بدل دے گا

انور قرقاش نے کہا کہ بحران کے چھ ماہ بعد خطے کی صورتحال پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور غیر یقینی ہوگئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ خلیج مزید پیچیدہ جبکہ پورا خطہ زیادہ مشکل دور کی جانب بڑھ رہا ہے۔

ان کے مطابق اس صورتحال میں اسٹریٹجک خودمختاری محض ایک نعرہ نہیں بلکہ یو اے ای کی پالیسی کا حصہ ہے، جس کے ذریعے معیشت کو ترقی کی راہ پر برقرار، عوام کو محفوظ اور قومی فیصلوں کو آزاد رکھا جاسکتا ہے۔

انور قرقاش نے کہا کہ ایران کے ساتھ رابطہ ناگزیر رہے گا کیونکہ جغرافیہ دونوں فریقوں کو ایک دوسرے کے ساتھ تعلق رکھنے پر مجبور کرتا ہے، تاہم ضروری ورکنگ ریلیشن شپ کی بحالی اور باہمی اعتماد کی بحالی دو مختلف معاملات ہیں۔

انہوں نے خلیجی ممالک پر حملوں کو ’’سوچی سمجھی جنگ‘‘ اور حکمت عملی و ریاستی سفارت کاری کی ناکامی قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران نے چند ہفتوں میں اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ وہ روابط تباہ کردیئے جو کئی دہائیوں میں قائم ہوئے تھے، جبکہ اعتماد کی بحالی میں کئی سال بلکہ دہائیاں لگ سکتی ہیں۔

علاقائی ردعمل مؤثر ثابت نہ ہوسکا

انور قرقاش نے عرب، علاقائی اور عالمی سطح پر بحران کے ردعمل کو غیر مؤثر اور ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جنگ روکنے، توانائی اور بحری تجارت کے تحفظ اور تنازع کو محدود رکھنے کے لیے اجتماعی اقدامات توقعات پر پورے نہیں اترے۔

انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک نے انفرادی طور پر اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا تاہم قومی ردعمل کو مؤثر اجتماعی حکمت عملی میں تبدیل نہیں کیا جاسکا۔

ان کے مطابق مسئلہ ایران سے درپیش خطرے کو سمجھنے کا نہیں بلکہ مشترکہ تشخیص کو متحد اور مؤثر ردعمل میں تبدیل کرنے میں ناکامی کا تھا۔

کوئی ایک ملک آبنائے ہرمز کو کنٹرول نہ کرے

انور قرقاش نے آبنائے ہرمز کی صورتحال کو موجودہ تنازع کا مرکزی معاملہ قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کی سمندری تجارت کے ذریعے منتقل ہونے والے تقریباً ایک چوتھائی تیل کی ترسیل آبنائے ہرمز سے ہوتی ہے جبکہ عالمی زراعت کے لیے اہم کھاد کا بڑا حصہ بھی اسی راستے سے گزرتا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کو کسی ایک ملک کے کنٹرول میں نہیں ہونا چاہیے کیونکہ یہ عالمی اہمیت کی بین الاقوامی آبی گزرگاہ ہے۔

ان کے مطابق اس آبی راستے کو دباؤ کے لیے استعمال کرنا ناقابل قبول ہے اور تجارتی جہازوں پر حملوں کے نتائج بھی سامنے آنے چاہئیں۔

یو اے ای متبادل تجارتی راستے مضبوط کررہا ہے

انور قرقاش نے کہا کہ بحری، تجارتی اور توانائی کی سلامتی پہلے ہی یو اے ای کی ترجیحات میں شامل تھی تاہم موجودہ بحران کے بعد یہ ترجیحات مزید اہم ہوگئی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ یو اے ای اپنی مشرقی ساحلی پٹی پر بندرگاہوں کی گنجائش بڑھانے کے ساتھ پائپ لائنز، ریلوے اور تجارتی انفراسٹرکچر کو بھی مضبوط کررہا ہے جبکہ متبادل کارگو راستے بھی تیار کیے جارہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یو اے ای اپنی توانائی کی برآمدات اور تجارتی و معاشی سرگرمیوں کو کسی کے ہاتھوں یرغمال نہیں بننے دے گا۔

انہوں نے کہا کہ ان منصوبوں کی زیادہ تر تیاری پہلے ہی موجود تھی تاہم بحران نے ان کی تکمیل کی رفتار اور ضرورت دونوں میں اضافہ کردیا ہے۔

انور قرقاش نے آبنائے ہرمز میں آزادانہ آمدورفت، کشیدگی میں مستقل کمی، مستقبل میں ایرانی حملوں کے خلاف قابل اعتماد ضمانتوں اور خودمختاری و عدم مداخلت کے اصولوں کے احترام پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ جنگ اور امن کے فیصلے مسلح گروہوں کے ہاتھوں نہیں چھوڑے جاسکتے، جبکہ ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے واضح شرائط، تصدیق اور خلاف ورزی کی صورت میں نتائج ضروری ہیں۔

ان کے مطابق مؤثر دفاعی صلاحیت اور قابل اعتماد بازدار قوت کے ساتھ سنجیدہ سفارت کاری بھی ضروری ہے، جبکہ امریکا سمیت یو اے ای کی دیرینہ شراکت داریاں ملکی سلامتی اور طاقت کا اہم ذریعہ ہیں۔

انور قرقاش نے کہا کہ تعلقات اعتماد کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے بحال ہوسکتے ہیں، لیکن اعتماد کی بحالی ایک طویل اور مشکل سفر ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ایران کی جانب سے اپنے ہمسایوں کے ساتھ تعلقات کو پہنچنے والے نقصان کا راستہ کشیدگی میں کمی، پل دوبارہ تعمیر کرنے اور پائیدار سیاسی حل کی کوششوں سے نکل سکتا ہے۔

ان کے مطابق اگر سفارت کاری کامیاب بنانی ہے تو ایران کے ارادوں کا فیصلہ اس کے الفاظ کے بجائے اس کے اقدامات سے کرنا ہوگا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button