
خلیج اردو
دبئی کے علاقے بزنس بے میں نئے سال کی رات سردی بڑھتے ہی لوگوں کی بڑی تعداد برج خلیفہ کی جانب بڑھتی دکھائی دی، جہاں آتش بازی دیکھنے سے پہلے انتظار تھا اور انتظار سے پہلے کراک چائے۔ رات 10 بج کر 40 منٹ تک بزنس بے کی سڑک کے اطراف کیفے ٹیریاز، فوڈ ٹرکس اور سپر مارکیٹس میں زبردست رش رہا، جہاں ہزاروں افراد کے لیے کراک چائے، سینڈوچز، سموسے اور پاپ کارن فروخت کیے جا رہے تھے جو فٹ پاتھوں پر گھنٹوں کھڑے رہنے کی تیاری میں تھے۔
ہبہ کیفے ٹیریا کے فوڈ ٹرک پر ماحول خود ایک جشن کا منظر پیش کر رہا تھا، کاغذی کپوں سے اٹھتی بھاپ، سردی سے ہاتھ ملتے گاہک اور آرڈرز کی آوازیں گونج رہی تھیں۔ ایک بھارتی نوجوان نے کراک چائے کا کپ تھامتے ہوئے کہا کہ اس موسم میں چائے ناگزیر ہے، ہمیں گھنٹوں کھڑا رہنا ہے، یہ ہماری توانائی ہے۔
کچھ فاصلے پر سیکنڈ ہوم ریسٹورنٹ میں بھی مکمل گہما گہمی تھی، عملہ مائیک کے ذریعے چائے، بریانی اور سینڈوچز کی آوازیں لگاتا رہا، تاکہ برج خلیفہ کی طرف جانے والے پیدل افراد کو روکا جا سکے۔ میز پر کیتلیاں سیٹیاں بجاتی رہیں اور کپ تیزی سے قطار میں لگتے گئے۔ ریسٹورنٹ کے مالک کے مطابق یہ رات سال کی مصروف ترین راتوں میں شامل ہو سکتی ہے، اندازے کے مطابق ایک ہزار سے زائد کپ چائے فروخت ہوں گے، کیونکہ لوگ آتش بازی سے پہلے بھی آتے ہیں اور بعد میں بھی واپس لوٹتے ہیں، جب رش عروج پر ہوتا ہے۔
بزنس بے میٹرو اسٹیشن کے سامنے سیفیسٹ وے سپر مارکیٹ نے بھی خصوصی انتظام کیا، جہاں ایک شخص شاپنگ ٹرالی میں پاپ کارن کے تھیلے، چائے کے فلاسک اور سموسوں و کچوریوں کی ٹرے لیے مسلسل کپ بھرتا رہا۔ جیسے جیسے رش بڑھتا گیا، عملہ بار بار اسنیکس کی آوازیں لگاتا رہا اور وہ لوگ بھی رک گئے جو رکنے کا ارادہ نہیں رکھتے تھے۔ ایک مصری خاتون نے اپنے خاندان کے لیے چائے اور اسنیکس لیتے ہوئے کہا کہ یہ لمبی رات ہے، چائے ہمیں گرم بھی رکھتی ہے اور جاگتا بھی۔
دکانداروں کے مطابق اس رات میں وقت کی اہمیت بہت زیادہ ہوتی ہے، آتش بازی سے پہلے تو لوگ آتے ہیں لیکن اصل رش اس کے بعد ہوتا ہے، جب ہزاروں افراد واپسی پر 1 سے 2 بجے کے درمیان گزرتے ہیں اور یہی ان کے کاروبار کا سنہری وقت ہوتا ہے۔







