متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات میں ماہرینِ جلد اور ماہرینِ نفسیات نے بچوں میں سوشل میڈیا سے متاثر ہوکر میک اپ اور اسکن کیئر مصنوعات کے بڑھتے استعمال پر والدین کو خبردار کردیا ہے۔

خلیج اردو
ماہرِ جلد ڈاکٹر سالم انتبی کے مطابق سات سالہ بچی کو بالغ خواتین کے نیل پالش کے استعمال کے بعد شدید بیکٹیریا اور فنگس انفیکشن کا سامنا کرنا پڑا، جس کے علاج میں نو ماہ لگ گئے۔ انہوں نے کہا کہ ہر ماہ ایسے کئی کیسز سامنے آرہے ہیں۔

ڈاکٹر سالم انتبی نے بتایا کہ بچوں کی جلد بالغ افراد کے مقابلے میں تقریباً 30 فیصد زیادہ نازک ہوتی ہے، اس میں حفاظتی چکنائی کی تہہ مکمل طور پر موجود نہیں ہوتی، جس کے باعث کیمیائی اجزاء جلد میں تیزی سے جذب ہو جاتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق کئی مصنوعات میں فینول، فارملڈیہائیڈ، بینزوفینونز اور پیرا بینز جیسے مضر کیمیکل شامل ہوتے ہیں، جو ہارمونز پر منفی اثرات مرتب کرسکتے ہیں۔ ڈاکٹر سالم انتبی نے خبردار کیا کہ “صرف بچوں کے لیے” یا “قدرتی” لکھا ہونا مصنوعات کے محفوظ ہونے کی ضمانت نہیں۔

ماہرِ نفسیات ڈاکٹر ایوا جاجونی نے کہا کہ کم عمری میں خوبصورتی کے غیر ضروری معیار بچوں کی ذہنی نشوونما کو متاثر کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق بچیاں اپنی جلد کو “درست کرنے والی چیز” سمجھنے لگتی ہیں، جس سے احساسِ کمتری اور ذہنی دباؤ پیدا ہوسکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس رجحان کے باعث بچے آئینے کے سامنے غیر ضروری وقت گزارتے ہیں، معمولی جلدی تبدیلیوں پر پریشان ہوتے ہیں اور بعض اوقات سماجی سرگرمیوں سے بھی دور ہونے لگتے ہیں۔

2024 میں “جرنل آف پیڈیاٹرک سائیکالوجی” میں شائع تحقیق کے مطابق کم عمری میں بیوٹی مواد دیکھنے والے بچوں میں بے چینی اور ڈپریشن کی شرح زیادہ دیکھی گئی۔

دو اماراتی ماؤں، وردہ الہاشمی اور ہناء عیدروس نے کہا کہ سوشل میڈیا پر کم عمر انفلوئنسرز بچوں کو متاثر کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق وہ اپنی بچیوں کو صرف سن اسکرین، موئسچرائزر، لپ بام اور ہلکے میک اپ تک محدود رکھتی ہیں۔

ماہرین نے والدین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ بچوں کی ظاہری خوبصورتی کے بجائے ان کی صحت، صلاحیت اور اعتماد پر توجہ دیں اور انہیں سوشل میڈیا فلٹرز اور ایڈیٹنگ کی حقیقت سے آگاہ کریں۔

جلد کے ماہرین کے مطابق 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے صرف معدنی سن اسکرین، خوشبو سے پاک موئسچرائزر، ہلکا لپ بام اور کیمومائل واٹر جیسی سادہ مصنوعات ہی محفوظ سمجھی جاتی ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق کم عمری میں خوبصورتی کے غیر حقیقی رجحانات بچوں کی ذہنی اور جسمانی صحت کے لیے سنگین خطرہ بنتے جا رہے ہیں، جس کے لیے والدین اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز دونوں کو ذمہ داری ادا کرنا ہوگی۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button