
خلیج اردو
گرمیوں کی تعطیلات کے دوران بھارت جانے والی براہِ راست پروازوں کے کرایوں میں نمایاں اضافے کے بعد متحدہ عرب امارات میں مقیم کئی مسافر سفری اخراجات کم کرنے کے لیے مختلف متبادل طریقے اختیار کر رہے ہیں۔
سفری ماہرین کے مطابق بعض خاندان براہِ راست جنوبی بھارتی شہروں کی پرواز لینے کے بجائے پہلے ممبئی پہنچتے ہیں اور وہاں سے اندرونِ ملک پرواز یا ٹرین کے ذریعے اپنی منزل تک سفر مکمل کرتے ہیں۔
شارجہ میں مقیم مارکیٹنگ مینیجر اسلم کے نے بتایا کہ ان کے چار رکنی خاندان کے لیے براہِ راست کوچی جانے کے ٹکٹ تقریباً 18 ہزار درہم تک پہنچ گئے تھے۔ چنانچہ انہوں نے پہلے ممبئی جانے اور پھر وہاں سے کوچی روانہ ہونے کا منصوبہ بنایا۔
انہوں نے کہا کہ اس طریقے سے مجموعی سفری اخراجات تقریباً 10 ہزار درہم رہے، جس سے انہیں لگ بھگ 8 ہزار درہم کی بچت ہوئی، اگرچہ سفر کا دورانیہ 48 سے 56 گھنٹے تک بڑھ گیا۔
سفری اداروں کے مطابق متحدہ عرب امارات کے مختلف ہوائی اڈوں سے کرایوں کا موازنہ کرنا بھی ایک مقبول حکمتِ عملی بن چکی ہے۔
دبئی مرینا میں مقیم تاجر ببن پوجاری نے دبئی کے بجائے ابوظبی سے ممبئی کی پرواز منتخب کی، جس سے ان کے تین رکنی خاندان کو تقریباً 2 ہزار 800 درہم کی بچت ہوئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مسافر دبئی، ابوظبی، شارجہ اور رأس الخیمہ کے ہوائی اڈوں سے کرایوں کا تقابلی جائزہ لے رہے ہیں تاکہ کم قیمت ٹکٹ حاصل کیے جا سکیں۔
بعض خاندان فضائی کمپنیوں کے وفاداری پروگراموں اور کریڈٹ کارڈ ریوارڈ پوائنٹس سے بھی فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ بنگلورو جانے والے سلیم شیخ نے اپنے جمع شدہ ایمریٹس اسکائی وارڈز پوائنٹس استعمال کرکے سفری اخراجات میں نمایاں کمی کی۔
سفری ایجنٹس کے مطابق بہت سے مسافر اب طویل راستے، درمیان میں قیام، مختلف فضائی کمپنیوں کا امتزاج اور سفری تاریخوں میں معمولی تبدیلی جیسے طریقے اپنا رہے ہیں تاکہ مہنگے سیزن میں بھی بجٹ کے اندر سفر ممکن بنایا جا سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگست تک پروازوں کی طلب مضبوط رہنے کی توقع ہے، اس لیے جو مسافر اپنے سفر کی تاریخ، راستے یا روانگی کے ہوائی اڈے میں لچک دکھائیں گے، وہ زیادہ بچت کر سکیں گے۔







