
خلیج اردو
دنیا بھر میں خوبصورتی کے مقصد سے ٹانگوں کی ہڈی لمبی کرنے کی سرجری کو توجہ مل رہی ہے، تاہم یو اے ای میں مقیم معروف سرجن ڈاکٹر درور پالی نے خبردار کیا ہے کہ یہ سرجری صرف معتبر اور تجربہ کار مراکز پر ہی کرائی جائے۔ ان کے مطابق کم لاگت والے کلینکس میں یہ عمل مریضوں کیلئے مستقل نقصانات اور پیچیدگیوں کا سبب بن سکتا ہے۔
قد بڑھانے کی اس سرجری کے ذریعے مریض زیادہ سے زیادہ 15 سینٹی میٹر لمبا ہو سکتا ہے، تاہم اس کیلئے طویل اسپتال قیام اور کئی ماہ پر محیط بحالی کا عمل درکار ہوتا ہے۔ برطانوی اخبار دی گارڈین کے مطابق این ایچ ایس نے بھی اس سرجری کے خلاف سخت وارننگ جاری کی ہے۔
ڈاکٹر پالی، جو پالی مڈل ایسٹ کلینک کے سی ای او اور بانی ہیں، اور تقریباً 25 ہزار ایسے آپریشن کر چکے ہیں، نے کہا کہ بعض سرجنز محض مالی فائدے کیلئے یہ عمل کرتے ہیں حالانکہ ان کے پاس پیچیدگیوں سے بچاؤ یا علاج کی مہارت نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ "زیادہ تر مریض قیمت کے باعث غیر معتبر مراکز کا انتخاب کرتے ہیں، لیکن اس کے نتائج بہت خطرناک ہو سکتے ہیں۔”
یو اے ای میں اس سرجری کی لاگت خاصی زیادہ ہے، صرف امپلانٹ ایبل نیلز کی قیمت 50 ہزار ڈالر ہے، جبکہ سرجن کی فیس، اسپتال میں قیام اور بعد ازاں بحالی کے اخراجات اس میں مزید اضافہ کرتے ہیں۔ اس کے برعکس سستے کلینکس میں غیر معیاری آلات استعمال کیے جاتے ہیں یا فالو اپ کی سہولت نہیں دی جاتی، جس سے سنگین پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں۔ چین میں اس کے خطرناک نتائج سامنے آنے پر حکومت نے یہ سرجری غیر قانونی قرار دے دی ہے۔
یہ سرجری اصل میں حادثاتی چوٹ یا ہڈی کے بگاڑ کو درست کرنے کیلئے بنائی گئی تھی، جس میں ہڈی کو کاٹ کر آہستہ آہستہ بڑھایا جاتا ہے۔ اس کیلئے جدید آلات، روزانہ کی فزیوتھراپی اور مسلسل نگرانی لازمی ہے تاکہ پٹھوں کے سکڑاؤ، اعصاب کو نقصان، انفیکشن یا مستقل معذوری جیسے خطرات سے بچا جا سکے۔
ڈاکٹر پالی کے مطابق یو اے ای میں آنے والے مریض مقامی طور پر 15 ہفتے تک زیر علاج رہتے ہیں، روزانہ فزیوتھراپی دی جاتی ہے اور ہر دو ہفتے بعد سرجن سے معائنہ کیا جاتا ہے۔ ان کے کلینک کے مطابق پیچیدگیوں کے علاج کیلئے دوسری سرجری کی ضرورت ایک فیصد سے بھی کم مریضوں کو پیش آتی ہے، جو اسے دنیا کے محفوظ ترین مراکز میں شمار کرتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مریض روزانہ ایک ملی میٹر ہڈی بڑھاتے ہیں، پانچ ماہ تک واکر یا بیساکھی استعمال کرتے ہیں، اور چھٹے مہینے کے بعد دوبارہ دوڑنے یا کھیل کود میں حصہ لے سکتے ہیں۔ ایک سال میں مریض 85 فیصد صحت یاب ہو جاتے ہیں جبکہ دو سال میں مکمل سابقہ جسمانی صلاحیت بحال کر لیتے ہیں۔







