
خلیج اردو
دبئی: عالمی فیشن ہاؤس لُوئی ویٹون نے اپنی پہلی کاسمیٹکس لائن ’’لا بوٹے لُوئی ویٹون‘‘ لانچ کر دی ہے جس میں 160 ڈالر کی لپ اسٹک اور 250 ڈالر کا آئی شیڈو پیلیٹ شامل ہے۔ لپ اسٹک ریفلز کی قیمت 69 ڈالر جبکہ آئی شیڈو ریفلز 92 ڈالر میں دستیاب ہوں گے، جو حریف برانڈ ہرمیس کے مقابلے میں تقریباً دگنے ہیں۔
اس نئی رینج میں 55 شیڈز کی لپ اسٹکس، ٹِنٹڈ بامز اور آئی شیڈو پیلیٹس شامل ہیں۔ کاسمیٹکس لائن کی تخلیقی ڈائریکٹر معروف میک اپ آرٹسٹ ڈیم پیٹ میک گراتھ ہیں جو گزشتہ دو دہائیوں سے ویٹون کے فیشن شوز کے ساتھ منسلک رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ مجموعہ تخلیقی صلاحیت اور ہنرمندی کا شاندار امتزاج ہے۔
پیکیجنگ جرمن ڈیزائنر کونستانتین گرچک نے تیار کی ہے جس میں ریفل ایبل ’’فلاور لاک سسٹم‘‘ استعمال کیا گیا ہے تاکہ پائیداری اور خوبصورتی کو یکجا کیا جا سکے۔
پروڈکٹس میں ہائی اینڈ فارمولے استعمال کیے گئے ہیں۔ لپ اسٹکس میں 85 فیصد اسکن کیئر بیس ہے جس میں ہائیلورونک ایسڈ، شیابٹر اور قدرتی فلاور ویکس شامل ہیں۔ بامز 48 گھنٹے تک ہائیڈریشن فراہم کرتے ہیں۔ خوشبوؤں کے لیے برانڈ کے ماسٹر پرفیومر جیک کیویلیئر نے مِموسا، جیسمین اور گلاب کو لپ اسٹکس کے لیے جبکہ بامز کے لیے راسبیری اور منٹ کا امتزاج تیار کیا ہے۔
سوشل میڈیا پر صارفین نے ان قیمتوں کو ’’غیر ضروری طور پر مہنگا‘‘ قرار دیا ہے۔ کئی افراد نے طنزیہ تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’کسی بھی لپ اسٹک کی قیمت 160 ڈالر نہیں ہونی چاہیے، چاہے اس میں سونا ہی کیوں نہ شامل ہو‘‘۔ کچھ نے کہا کہ مہنگا میک اپ لگانے کے بعد نظر نہیں آتا، اس لیے ایسی پرتعیش پروڈکٹس خریدنے کا کوئی فائدہ نہیں۔
اس سب کے باوجود، فیشن اور بیوٹی کی دنیا میں لُوئی ویٹون کی انٹری کو ایک شاندار مگر متنازع اضافہ قرار دیا جا رہا ہے۔







