خلیج اردو
26 نومبر 2020
ابوظبہی: ابوظہبی پولیس نے ایک ایسی ویڈیو شیئر کی ہے جس میں عوام کو سڑک پار کرتے ہوئے بے احتیطاطی پر سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ ایک شخص ابوظہبی میں مصروف سڑک کے دوسرے پار جانے کیلئےدوڑ رہا ہے۔ وہ پہلے ایک گلی کو عبور کرتا ہے ، اس کے بعد وہ دوسری گلی کو عبور کرنے کی کوشش کرتا ہے لیکن وہ تیز رفتار کار کی زد میں آجاتا ہے اور کار نے اسے گرا دیا ہے۔
عام طور پولیس ایسے غیر قانونی طریقے کے سنگین انجام سے لوگوں کو باربار منع کرتی رہی ہے اور اس کے نتائج بارے عوام میں اگاہی پھیلانے کی کوشش کرتی آئی ہے۔ اس ویڈیو پر بھی پولیس نے عوام کی رائے طلب کی ہے۔
ابو ظہبی پولیس کے ذریعہشروع کردہ ایک حالیہ اگاہی اقدام سے انکشاف ہوا ہے کہ 86٪ عوام ٹریفک حادثات کی حقیقی ویڈیوز کی اشاعت کی حمایت کرتے ہیں۔ اس مہم کے ایک حصے میں سوشل میڈیا کے ذریعہ تقریبا، ساڑھے چھ ہزار شرکاء کی رائے شماری شامل ہے۔ شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ویڈیوز کی اشاعت روڈ ایکسیڈنٹ کو کم کرنے اور سڑک استعمال کرنے والوں کی حفاظت کو بڑھانے کے لئے ایک موثر طریقہ تھا۔
ابوظہبی پولیس نے ڈرائیوروں کو بھی سرخ لکیر کے عبور کرنے سے متعلق خطرات سے خبردار کیا اور اسے خطرناک خلاف ورزی قرار دیی ہے۔ پولیس نے ریڈ لائٹ عبور کرنے کے تین وجوہات کا حوالہ دیا ۔ یہ چوک چوراہوں پر تیز رفتاری ، غفلت اور ڈرائیونگ کے دوران موبائل فون استعمال کرنے کی وجہ سے ہے۔ پولیس نے ڈرائیوروں سے اپیل کی کہ وہ اپنی زندگیوں اور دیگر ڈرائیوروں کی زندگی کو لاحق خطرات سے آگاہ ہوکر احتیطاط سے کام لیں۔
گزشتہ سال ابوظبہی پولیس نے ایسے 48000 افراد کو جرمانہ کیا جو غیر موزوں اور غیر قانونی راستے سے سڑک پاکررہے تھے کیونکہ یہ افراد اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کی زندگی کو بھی خطرے میں ڈالتے ہیں۔
پولیس نے پیدل چلنے والوں سے گذارش کی ہے کہ وہ محفوظ گزرگاہوں پر سے گزریں اور اس بارے قانون پر عمل پیرا ہوں اور فٹ برج اور سب ویز استعمال کریں۔ پولیس نے ان افراد کو چوراہوں پر پیدل چلنے والے ٹریفک لائٹس کی پابندی کرنے کو بھی کہا گیا ہے۔
پولیس نے گاڑی چلانے والوں پر بھی زور دیا ہے کہ وہ پیدل چلنے والوں کی حدود پر توجہ دیں اور لائنوں کو عبور کرنے سے پہلے اپنی رفتار کم کریں۔
Source: Gulf Today
پولیس نے زور دیا ہے کہ پیدل چلنے والوں اور ڈرائیوروں کے مابین پیدل چلنے والوں کی حفاظت مشترکہ ذمہ داری ہے۔







