متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات میں سیکنڈ ہینڈ لگژری اشیاء کا مقبول پلیٹ فارم: اماراتی جوڑے کی کامیاب کہانی

خلیج اردو
دبئی، 5 جولائی – ایک لُوئی وِٹوں بیگ سے شروعات کرکے ایک مکمل ری سیل کاروباری سلطنت تک، اماراتی جوڑے ہدیر سلیمان اور جمال العبیدلی نے گزشتہ 15 سالوں میں خطے میں لگژری مصنوعات کی خرید و فروخت کے انداز کو یکسر بدل دیا۔ ان کا پلیٹ فارم "The Closet” نہ کسی کانفرنس روم سے شروع ہوا اور نہ کسی سرمایہ کاری سے، بلکہ ایک عام خاتون کی ذاتی پریشانی سے جنم لیا۔

ہدیر نے جب اپنا ذاتی بیگ آن لائن فروخت کرنے کی کوشش کی تو بار بار ایک جیسے سوالات، جیسے اصل ہونے کی تصدیق، سائز اور خریداری کی تفصیل نے انہیں پریشان کر دیا۔ یہی تجربہ ان کے ذہن میں ایک پروفیشنل اور بغیر جھنجھٹ کے کنسائنمنٹ سروس کی ضرورت کو ابھار گیا، اور یوں 2010 میں "The Closet” کی بنیاد رکھی گئی۔

اگرچہ ہدیر کا تعلق فیشن انڈسٹری سے نہیں تھا، مگر خاندانی کاروباری پس منظر اور بھاری صنعتوں میں کام کے تجربے نے انہیں ایک قابل منتظم اور مضبوط بانی بننے میں مدد دی۔ ان کے شوہر جمال العبیدلی، جو شریک بانی بھی ہیں، نے عالمی برآمدات اور لاجسٹکس میں مہارت حاصل کی، اور بچپن میں ہوٹل کی دکانوں سے ریٹیل تجربہ حاصل کیا۔

سوچ میں تبدیلی

2010 میں جب "The Closet” نے آغاز کیا تو پری اونڈ لگژری مصنوعات کو فروخت کرنا یا خریدنا ثقافتی طور پر قابل قبول نہیں تھا۔ ہدیر کہتی ہیں: "لوگ سمجھتے تھے کہ سیکنڈ ہینڈ بیچنا مالی تنگی کی علامت ہے۔” تاہم آج کے دور میں خاص طور پر نوجوان اور ماحول دوست صارفین کے باعث یہ رجحان تبدیل ہو چکا ہے۔

سوشل میڈیا کے باعث صارفین اب زیادہ باخبر ہیں اور سیکنڈ ہینڈ اشیاء کو اسمارٹ اور اسٹائلش انتخاب کے طور پر دیکھتے ہیں۔ صارفین کا رویہ اب بدل چکا ہے: "کیا کوئی میرے استعمال شدہ بیگ کو خریدے گا؟” سے بڑھ کر "یہ تو سرکلر فیشن ہے!”

پائیداری اور شفافیت کی بنیاد

"The Closet” کی بنیاد پائیداری پر ہے۔ ہر لگژری پراڈکٹ کو دوسری یا تیسری زندگی دے کر وہ نئے مال کی ضرورت کو کم کرتے ہیں اور فیشن ویسٹ کو روکتے ہیں۔

یہ کمپنی صارفین کے اعتماد کو اپنی سب سے بڑی ترجیح مانتی ہے۔ ان کا منفرد "لائف ٹائم آتھنٹیسٹی وارنٹی” اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ کوئی جعلی مال بیچا یا خریدا نہیں جائے گا۔ ہر پراڈکٹ کو دو الگ الگ ماہرین چیک کرتے ہیں، پھر مصنوعی ذہانت سے اس کی حتمی تصدیق کی جاتی ہے — یہ نظام دبئی ڈیپارٹمنٹ آف اکانومی اینڈ ٹورازم سے منظور شدہ ہے۔

جعلی اشیاء جمع کروانے پر 5,000 درہم تک جرمانہ عائد کیا جاتا ہے۔ مزید یہ کہ ہر آتھنٹی کیٹر تین سالہ تربیت سے گزر کر ہی اس مقام پر پہنچتا ہے۔

آنے والا کل اور نئی وسعتیں

2025 کے آغاز میں کمپنی نے "The Luxe Society” کے نام سے ایک نیا ذیلی پلیٹ فارم متعارف کرایا، جو صرف نایاب اور غیر استعمال شدہ لگژری اشیاء کے لیے مخصوص ہے۔ اس کا مقصد ان گاہکوں کی ضروریات پوری کرنا ہے جو منفرد اور سرمایہ کاری کی صلاحیت رکھنے والی اشیاء کی تلاش میں ہوتے ہیں، مگر کسی قابلِ اعتماد ذریعہ کے تحت۔

ہدیر سلیمان کا نئے کاروباری افراد کے لیے پیغام واضح ہے:
"اپنے کاروبار کی بنیاد کسی فیشن یا ٹرینڈ پر نہیں، بلکہ ایک حقیقی ضرورت پر رکھو۔ اعتماد سب کچھ ہے۔ دیانت دار رہو، شفاف رہو۔ اور یاد رکھو، یہ صرف فیشن کا کام نہیں — اس میں لاجسٹکس، آپریشنز، ٹیکنالوجی اور صارف کی نفسیات کا گہرا علم درکار ہے۔ یہ چمک دمک والا شعبہ لگتا ہے، مگر اس کے پیچھے سخت محنت ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button