متحدہ عرب امارات

گرمیوں کی چھٹیوں میں اذان دینے والے باہمت اماراتی بچے، روحانی لگاؤ اور دینی جذبے کی روشن مثال

خلیج اردو
دبئی: جہاں گرمیوں کی تعطیلات اکثر تفریح اور آرام کے لیے مخصوص سمجھی جاتی ہیں، وہیں متحدہ عرب امارات کے کئی باہمت بچوں نے ان لمحات کو روحانیت سے بھرپور بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ‘مؤذن الفریج’ پروگرام کے تحت یہ بچے ملک بھر کی مساجد میں اذان دینے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں، جس سے ان کی دینی وابستگی اور جذبہ قابلِ تحسین ہے۔

پروگرام کا مقصد نئی نسل میں اسلامی اقدار کو پروان چڑھانا اور مساجد سے مضبوط رشتہ قائم کرنا ہے۔ ‘مؤذن الفریج’ یعنی "محلے کا مؤذن” ان بچوں کے لیے ایک تربیتی پلیٹ فارم ہے جو اذان میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

رشید خالد الکتبی — نرمی سے گونجتی اذان کی آواز

نو سالہ رشید خالد الکتبی، دبئی کے کنگز اسکول کے طالبعلم، آٹھ سال کی عمر سے ہی اذان میں دلچسپی رکھتے تھے۔ ایک دن انہوں نے مسجد کے امام سے درخواست کی کہ وہ عصر کی اذان دینا چاہتے ہیں، امام نے اجازت دی اور یوں روزانہ اذان دینا رشید کا معمول بن گیا۔ بعدازاں وہ مؤذن الفریج پروگرام کا حصہ بنے اور ناد الشیبہ پیلس میں شیخ حمدان بن محمد بن راشد المکتوم کے سامنے اذان دینے کا اعزاز بھی حاصل کیا۔

رشید نہ صرف مؤذن ہیں بلکہ ایک باصلاحیت شاعر بھی ہیں، اور ہزار طلبہ میں سے دبئی کی سطح پر ہونے والے مقابلۂ شاعری میں پہلی پوزیشن حاصل کر چکے ہیں۔ وہ حتریک فٹبال اکیڈمی میں تربیت لیتے ہیں اور مستقبل میں امارات کی کسی مسجد میں باضابطہ مؤذن بننے کے خواہشمند ہیں۔

نہیان عبداللہ الفلاسی — والد کے نقش قدم پر

دس سالہ نہیان عبداللہ الفلاسی نے اذان دینا اپنے مذہبی والد سے سیکھا۔ شروع میں گھر میں اذان دینے والے نہیان بعد ازاں مختلف مؤذنین کی نقل کرتے کرتے اپنا انداز بنا بیٹھے۔ ان کے پسندیدہ مؤذن مکہ مکرمہ کی مسجد الحرام کے حمد الدغریر ہیں۔

نہیان نے زعبیل پیلس میں شیخ محمد بن راشد اور شیخ حمدان کے سامنے اذان دی، جس پر شیخ محمد نے ان کی اذان کو "نمبر ون” قرار دیا۔ وہ سائنٹیفک ریسرچ اسکول دبئی کے طالبعلم ہیں اور مسجد الخوانیج میں باقاعدگی سے قرآن و اذان کی کلاسز لیتے ہیں۔ تین پارے حفظ کر چکے نہیان نے بچوں کو مشورہ دیا: "اذان سیکھو تاکہ ایک دن تم بھی مؤذن بن سکو۔”

تمیم اور حسن — خرفکان سے دبئی تک کا روحانی سفر

خرفکان کے رہائشی بارہ سالہ تمیم محمود علی اور گیارہ سالہ حسن حمید الدرمکی نے دبئی کے مؤذن الفریج پروگرام میں شرکت کے لیے طویل سفر کیا۔ ان کی محنت رنگ لائی اور انہیں المتکوم سینٹر میں اعلیٰ تربیت کے لیے منتخب کیا گیا۔ انہوں نے دبئی اور خرفکان کی کئی مساجد میں اذان دی۔

تمیم نے بتایا کہ ام الشیف مجلس میں اذان دینا ان کے لیے ایک روحانی لمحہ تھا، جس نے ان کا خوف دور کر دیا۔ حسن، جو پہلے خاموشی سے مؤذنین کی نقل کرتے تھے، اب اعتماد سے اذان دیتے ہیں۔ حسن نو جبکہ تمیم گیارہ پارے حفظ کر چکے ہیں۔ دونوں فقہ اور حدیث کی کلاسز بھی لیتے ہیں اور کھیلوں، خاص طور پر فٹبال میں بھی دلچسپی رکھتے ہیں۔

روحانی ترغیب اور تربیت کی جانب کامیاب قدم

بچوں کے والدین خصوصاً مائیں اس پروگرام کو سراہتی ہیں اور کہتی ہیں کہ یہ نہ صرف بچوں کے کردار کو سنوارتا ہے بلکہ ان میں دینی شعور بھی اجاگر کرتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مقصد صرف کامیابی حاصل کرنا نہیں بلکہ بچوں کو اذان، نماز اور دینی ذمہ داریوں سے جوڑنا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button