متحدہ عرب امارات

موہرے اور دبئی پولیس کی مشترکہ آگاہی مہم، 9 ہزار 200 سے زائد کارکنان مستفید

خلیج اردو

دبئی میں وزارتِ انسانی وسائل و اماراتی کاری اور دبئی پولیس کی مشترکہ آگاہی مہم کے تحت پانچ مختلف علاقوں میں 9 ہزار 200 سے زائد کارکنان کو قانونی، ڈیجیٹل اور سیکیورٹی امور سے متعلق آگاہی فراہم کی گئی۔ اکتوبر میں شروع ہونے والی اس مہم کا مقصد کارکنان کو ان کے حقوق اور ذمہ داریوں سے آگاہ کرنا اور انہیں استحصال، فراڈ اور دیگر خطرات سے محفوظ رکھنا تھا، تاکہ وہ متحدہ عرب امارات کی پائیدار ترقی میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔

وزارتِ انسانی وسائل و اماراتی کاری کے لیبر پروٹیکشن سیکٹر کی قائم مقام اسسٹنٹ انڈر سیکریٹری دلال الشحی نے کہا کہ آگاہی پروگرامز وزارت کی اُن بنیادی کوششوں میں شامل ہیں جن کے ذریعے لیبر مارکیٹ کو منظم اور مزید مسابقتی بنایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل ٹولز، فیلڈ مہمات اور براہِ راست رابطے کارکنان کو عملی معلومات فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے نالج یور رائٹس مہم کے تحت دبئی پولیس کے ساتھ شراکت کو بھی سراہا اور کہا کہ اس اقدام سے کارکنان میں وابستگی کا احساس مضبوط ہوا اور معاشرتی سلامتی و استحکام کو فروغ ملا۔

دبئی پولیس میں کرائم پریوینشن کے ڈائریکٹر کرنل عارف بشوہ نے کہا کہ کارکنان پر مرکوز آگاہی مہمات پولیس کے انسدادی حکمتِ عملی کا اہم حصہ ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سیکیورٹی ایک مشترکہ ذمہ داری ہے اور باخبر کمیونٹیز جرائم میں کمی اور مجموعی استحکام کے لیے کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔

یہ مہم العمال رہائش گاہوں میں الورسان، جبل علی ون، محیصنہ ٹو، القوز اور جبل علی انڈسٹریل کے علاقوں میں چلائی گئی۔ ورکشاپس میں لیبر قوانین، روڈ سیفٹی اور جرائم کی روک تھام سے متعلق موضوعات شامل تھے، جبکہ سائبر کرائم، آن لائن فراڈ، منشیات کے استعمال اور دیگر خطرناک رویوں پر بھی خصوصی سیشنز منعقد کیے گئے۔

کارکنان کو دبئی پولیس کی خدمات اور رپورٹنگ چینلز سے بھی متعارف کرایا گیا، جن میں ایمرجنسی نمبر 999، نان ایمرجنسی نمبر 901، پولیس آئی سروس، دبئی پولیس اسمارٹ ایپ اور ای کرائم ہب شامل ہیں۔ حکام کے مطابق یہ اقدام موہرے اور دبئی پولیس کے اس مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ لیبر قوانین سے آگاہی بڑھائی جائے، منفی رویوں کی حوصلہ شکنی کی جائے اور کارکنان کے لیے واضح اور قابلِ رسائی رابطہ ذرائع یقینی بنائے جائیں، تاکہ ایک محفوظ اور مضبوط کمیونٹی تشکیل دی جا سکے۔

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button