
خلیج اردو
دبئی میں کھیلے گئے انڈر 19 ایشیا کپ کے فائنل میں پاکستان نے شاندار آل راؤنڈ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے روایتی حریف بھارت کو 191 رنز سے شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کر لیا۔ پاکستان کی فتح میں اوپنر سمیر منہاس کی تاریخی سنچری اور فاسٹ بولرز کی تباہ کن بولنگ نے فیصلہ کن کردار ادا کیا۔
348 رنز کے بڑے ہدف کے تعاقب میں بھارتی ٹیم ابتدا ہی سے دباؤ کا شکار نظر آئی اور 59 رنز پر اس کی چار وکٹیں گر گئیں۔ ویبھو سوریاونشی نے 26 رنز بنا کر کچھ مزاحمت کی، تاہم مجموعی طور پر بھارتی بیٹنگ لائن ناکام رہی۔ پاکستان کے فاسٹ بولرز علی رضا، محمد صیام اور عبدالصبان نے تباہ کن اسپیل کرتے ہوئے بھارت کو 26.2 اوورز میں 156 رنز پر آؤٹ کر دیا۔ دیپیش دیویندرن نے 16 گیندوں پر 36 رنز بنا کر شکست کو کچھ دیر کے لیے ٹالا۔
علی رضا نے چار وکٹیں حاصل کیں، جبکہ محمد صیام، عبدالصبان اور حذیفہ احسن نے دو، دو کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔
اس سے قبل ٹاس جیت کر بیٹنگ کرتے ہوئے پاکستان نے مقررہ 50 اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 347 رنز کا مضبوط مجموعہ بنایا۔ سمیر منہاس نے اپنی زندگی کی بہترین اننگز کھیلتے ہوئے 113 گیندوں پر 172 رنز اسکور کیے، جس میں 17 چوکے اور 9 چھکے شامل تھے۔ احمد حسین نے 56 رنز کی عمدہ اننگز کھیل کر ان کا بھرپور ساتھ دیا۔
پاکستان کا آغاز محتاط رہا، سمیر منہاس اور حمزہ ظہور نے اوپننگ شراکت میں 31 رنز جوڑے، تاہم حمزہ ظہور 18 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔ اس کے بعد عثمان خان نے منہاس کے ساتھ 92 رنز کی شراکت قائم کی۔ عثمان خان 35 رنز بنا کر پویلین لوٹے۔
سمیر منہاس اور احمد حسین کے درمیان تیسری وکٹ کے لیے 137 رنز کی شراکت نے میچ پاکستان کے حق میں کر دیا۔ بعد ازاں کپتان فرحان یوسف کے ساتھ بھی 42 رنز جوڑے، تاہم آخری اوورز میں پاکستان کو چند وکٹوں کا نقصان ہوا۔ محمد صیام اور نقاب شفیق نے آخری لمحات میں ناقابل شکست رہتے ہوئے اسکور کو 347 تک پہنچایا۔
بھارت کی جانب سے دیپیش دیویندرن نے تین وکٹیں حاصل کیں، تاہم وہ مہنگے ثابت ہوئے اور 10 اوورز میں 83 رنز دیے، جبکہ ہنل پٹیل اور خلان پٹیل نے دو، دو وکٹیں حاصل کیں۔






