متحدہ عرب امارات

ابوظہبی، دبئی، شارجہ، اور راس الخیمہ میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے نئے قواعد و ضوابط نافذ کر دیے گئے

 

خلیج اردو آن لائن

متحدہ عرب امارات میں کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کو دیکھتے متحدہ عرب امارات کی متعدد امارات کی جانب سے کورونا کے پھیلاو کو روکنے کے لیے نئے اور سخت قواعد و ضوابط کا اعلان کی گیا ہے۔

دبئی:

متعلقہ مضامین / خبریں

دبئی کی ڈیزاسٹر اور کرائسز مینجمنٹ سے متعلق سپریم کمیٹی نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ سے بچنے کے لیے پروٹوکولز (قواعد و ضوابط) کا اعلان کر دیا۔

نئے قواعد و ضوابط 2 فروری سے 28 تک نافذ رہیں گے۔

نئے قواعد و ضوابط کا اعلان کورونا ایس او پیز کی بڑھتی ہوئی خلاف ورزیوں کو دیکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔

اس حوالے دبئی میڈیا آفس کی جانب سے ٹوئیٹ میں وارننگ دی گئی ہے کہ جان بوجھ کر ان قواعد و ضوابط کرنے والوں پر بھاری جرمانے عائد کیے جائیں گے۔

ہوٹلوں اور دیگر کاروباری مراکز کے لیے نئے قواعد و ضوابط درج ذٰیل ہیں:

  • سینما حال، کھیلوں کے میدان اور دیگر ایسے مراکز جہاں حالز یا کمروں میں لوگ بیٹھتے ہیں ان مقامات میں لوگوں کے بیٹھنے کی گنجائش 50 فیصد کر دی گئی ہے۔ اور احتیاطی تدابیر پر پہلے سے زیادہ سختی سے عمل کیا جائے گا۔
  • نئے قواعد کے مطابق شاپنگ مالز 70 فیصد گنجائش کے ساتھ کام کریں گے۔
  • نئے قواعد کے مطابق اب ہوٹل بھی 70 فیصد گنجائش کے ساتھ کام کریں گے۔
  • ہوٹلوں میں نجی ساحلوں اور سویمنگ پولز میں افراد گنجائش بھی 70 فیصد کر دی گئی ہے۔
  • ریستوران اور کیفوں کو رات 1 بجے بند کرنا ہوگا۔ اور انہیں اپنی عمارت کے اندر کسی قسم کی انٹرٹینمنٹ سرگرمی منعقد کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
  • پب اور بار بند کر دیے جائیں گے۔

سفر سے متعلق نئے قوانین درج ذیل ہیں:

  • کسی بھی ملک سے دبئی آںے والے یو اے ای کی رہائشیوں اور سیاحوں کو سفر سے پہلے کورونا ٹیسٹ کی منفی رپورٹ حاصل کرنا ہوگی۔
  • کورونا ٹیسٹ سفر پر روانگی سے 72 گھںٹے پہلے کروایا گیا ہو، اس سے پرانا ٹیسٹ قابل قبول نہیں ہوگا۔ یاد رہے کہ اس سے قبل 96 گھںٹے کے درمیان کروایا گیا ٹیسٹ قابل قبول ہوتا تھا۔
  • بعض ممالک میں کورونا کی صورتحال کے پیش نظر وہاں سے آنے والے مسافروں کا دبئی پہنچنے پر ایک اور پی سی آر ٹیسٹ کروایا جا سکتا ہے۔
  • امارتی شہریوں کو سفر سے پہلے ٹیسٹ کروانے کی ضرورت نہیں ہوگی، تاہم دبئی پہنچنے پر انکا ٹیسٹ لیا جائے گا۔

نجی پارٹیوں اور تقریبات کے لیے نئے قواعد درج ذیل ہیں:

  • نجی پارٹیوں اور تقریبات میں صرف انتہائی قریبی رشتہ دار شرکت کر سکیں گے۔
  • ان تقریبات میں زیادہ سے زیادہ 10 مہمان مدعو کیے جا سکیں گے۔
  • اور یہ احکامات گھروں اور ہوٹلوں میں ہونے والی تقریبات پر یکساں طور پر لاگو ہوں گے۔

کیفوں اور ریستورانوں کے لیے جاری کیے گئے قواعد درج ذیل ہیں:

  • کیفوں اور ریستورانوں میں صارفین کے بیٹھنے کے لیے ٹیبل ایک دوسرے سے 3 میٹر کے فاصلے پر لگائے جائیں گے۔
  • مزید برآں، ریستورانوں میں ایک ٹیبل پر صرف 7 افراد کے بیٹھنے کی اجازت ہوگی، جبکہ کیفیز میں ایک ٹیبل پر صرف 4 افراد کے بیٹھنے کی اجازت ہوگی۔

فٹنس سنٹروں کے لیے قواعد درج ذیل ہوں گے:

  • نئے قواعد کے مطابق فٹنس سنٹروں میں مشینوں، کھیلوں کے دیگر سامان اور ورزش کے لیے آنے والے افراد کے درمیان 2 سے 3 میٹر کا فاصلہ قائم کیاجائے گا۔

 

مزید برآں، کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے دبئی کی حکام کی جانب سے گزشتہ ہفتوں کے دوران دیگر کئی اہم فیصلے کیے گئے ہیں، جیسا کہ دبئی ٹورازم کی جانب سے جاری کردہ تمام تفریحی پرمٹ کینسل کر دیے گئے ہیں۔

  • تمام ہسپتالوں کو ایک مہینے کے لیے تمام غیر ضروری سرجریاں منسوخ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
  • دبئی ہیلتھ اتھارٹی نے دانتوں کی بیماریوں کے حوالے سے غیر اہم سروسز بھی بند کر دی ہیں۔

مزید برآں، حکام نے عوام سے درخواست کی ہے کہ وہ کسی فرد یا کسی کاروباری مرکز کی جانب سے ان قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کی شکایت دبئی پولیس کو 901 پر یا دبئی پولیس کی ایپ کے ذریعے کریں۔

ابوظہبی:

ابوظہبی حکام کی جانب سے کمرشل، اکنامک، اور سیاحتی سرگرمیوں کے لیے گنجائش میں کمی کا اعلان کیا ہے۔

  • تمام شاپنگ مالز صرف 40 فیصد گنجائش پر کام کر سکیں گے (جیسا کہ اگر کسی دکان میں 100 افراد کا داخل ہونے کی گنجائش ہے تو اس میں ایک وقت میں صرف 40 افراد ہی داخل ہو پائیں گے۔
  • اسی طرح سے جم، نجی ساحل، اور سویمنگ پولز 50 فیصد گنجائش کے ساتھ کام کریں گے۔
  • ریستوران، کافی شاپس، ہوٹل، عوامی ساحل، اور پارک 60 فیصد گنجائش پر کام کریں گے۔
  • ٹیکسیوں میں بھی کم مسافر لیجانے کی اجازت ہوگی، جس کی شرح 45 فیصد ہے۔
  • جبکہ بسوں میں 75 فیصد مسافر لیجانے کی اجازت ہوگی۔
  • مزید برآں، حکام کی جانب سے ابوظہبی میں سینما حالوں، پارٹیوں اور اجتماعات پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
  • شادی کی تقریبات اور فیملی اجتماعات میں صرف 10 لوگوں کے شرکت کی اجازت ہوگی۔
  • جنازے میں 20 لوگوں کے شرکت کرنے کی اجازت ہوگی۔
  • اور کمیٹی کی جانب سے انسیپکشن تیز کرنے کا اندیہ دیا گیا اور کہا گیا ہے کہ ان قواعد کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی۔

شارجہ میں درج ذٰیل نئے قواعد و ضوابط کا اعلان کیا گیا ہے:

  • گھروں میں شادیوں جیسی تقریبات میں 20 سے زیادہ لوگوں کو مدعو کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
  • ان تقریبات میں شرکت کرنے والے افراد کو ایک دوسرے 4 میٹر کا فاصلہ برقرار رکھنا ہوگا۔
  • اور تمام افراد کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایک دوسرے سے گلے نہ ملیں، ہاتھ نہ ملائیں اور بوسہ کرنے سے گریز کریں۔
  • اور تمام وقت فیس ماسک پہننا ہوگا۔ اور ان تقریبات میں سینی ٹائزیشن کا انتظام موجود ہونا چاہیے۔
  • اور ڈائننگ ٹیبلوں پر ان ٹیبلوں کی اصل گنجائش سے آدھے افراد بیٹھانے کی اجازت ہوگی۔
  • ان تقریبات کا دورانیہ 4 گھنٹوں سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔
  • مزید برآں، ان تقریبات کے دوران لائیو میوزک جیسی کوئی بھی تفریحی سرگرمی منعقد کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

 

عجمان میں کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے درج ذیل قواعد و ضوابط نافذ کیے گئے ہیں:

عجمان کے ڈیپارٹمنٹ آف اکنامک ڈویلپمنٹ  نے ٹوئیٹ کرتے ہوئے قواعد و ضوابط کی میں کی جانے والی تبدیلیوں کے بارے میں آگاہ کیا ہے۔

نئے قواعد و ضوابط چند معاشی سرگرمیوں پر اثر انداز ہوں گے۔

نئے قواعد و ضوابط درج ذٰیل ہیں:

  • کیفے، اسنیک شاپس، اور ریستوران رات 12 بجے بند کرنے ہوں گے۔
  • اور ان جہگوں پر صارفین کی گنجائش صرف 50 فیصد ہوگی۔
  • زیادہ سے زیاہ 50 لوگ شادی کی تقریب یا کسی اور سماجی ایونٹ میں شرکت کر پائیں گے۔
  • اور جن جگہوں یا حالز میں یہ تقریبات ہوں گیں، ان حالز کی گنجائش صرف 50 فیصد کر دی جائے گی۔

مزید برآں، حکام کی جانب سے ٹوئیٹ کرتے ہوئے وارننگ دی گئی ہے کہ وہ کورونا ایس او پیز پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے انسپیکشن مہم کو تیز کر رہے ہیں اور ان قواعد کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلا سخت کاروائی کی جائے گی۔

راس الخیمہ:

10 فروری کو راس الخیمہ ایمرجنسی کرائسز، اینڈ ڈیزاسٹر ٹیم کی جانب سے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے درج ذیل نئے قواعد و ضوابط کا اعلان کیا گیا ہے:

  • عوامی ساحلوں اور پارکوں میں لوگوں کے داخلے کی اصل گنجائش کو کم کر کے 70 فیصد کر دیا گیا ہے۔
  • شاپنگ مالز کو 60 فیصد گنجائش پر کام کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔
  • عوامی ٹرانسپورٹ، سینماگھر، تفریحی ایونٹ اور ہال، جم، سویمنگ پولز اور نجی ساحلوں میں صرف 50 فیصد تک افراد کے داخلے کی اجازت دی گئی ہے۔
  • نئے ایس او پیز کے تحت سماجی فیملی تقریبات میں زیادہ سے زیاہ 10 افراد کے شرکت کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ جبکہ جنازوں میں زیادہ زیادہ 20 افراد کی شرکت کی اجازت دی گئی ہے۔

Source: Gulf News

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button