
خلیج اردو
ابوظہبی: محکمہ تعلیم و نالج (ADEK) نے اسکول ٹرانسپورٹ پالیسی میں اہم تبدیلیاں کی ہیں جن کا مقصد طلبہ کی حفاظت، ڈسپلن اور سہولت کو یقینی بنانا ہے۔ نئی پالیسی کے تحت 15 سال سے کم عمر بچوں کو والدین یا ان کے مقرر کردہ کسی بالغ فرد کے بغیر اسکول سے نکلنے یا اسکول آنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اگر ڈراپ آف پوائنٹ پر والدین یا مقررہ سرپرست موجود نہ ہوں تو بچہ تمام طلبہ کے اترنے کے بعد واپس اسکول پہنچا دیا جائے گا۔
حفاظتی اقدامات کے تحت 11 سال سے کم عمر بچوں کے لیے اسکول بس میں سپروائزر کا ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے تاکہ کم عمر طلبہ پر قریبی نظر رکھی جا سکے۔ اسی طرح بڑے بہن بھائی (15 سال یا اس سے زیادہ) چھوٹے بہن بھائیوں کو اسکول سے لے جا سکتے ہیں لیکن اس کے لیے والدین کو دستخط شدہ رضامندی فارم اسکول کو جمع کروانا ہوگا۔
نئی پالیسی کے مطابق سائیکل یا اسکوٹر پر آنے والے گریڈ 9 سے 12 کے طلبہ (14 سے 18 سال) اسکول اکیلے آ اور جا سکتے ہیں لیکن والدین کو تحریری طور پر اس کی ذمہ داری قبول کرنا ہوگی کیونکہ اسکول کی نگرانی صرف کیمپس کے اندر شروع ہوتی ہے۔
پالیسی میں یہ بھی طے کیا گیا ہے کہ اسکول بس صرف طلبہ کے لیے مخصوص ہے، دیگر افراد اس میں سفر نہیں کر سکیں گے۔ البتہ فیلڈ ٹرپس کے دوران مخصوص حفاظتی اور تکنیکی شرائط پوری کرنے والی ٹورسٹ بسیں استعمال کی جا سکیں گی۔
سفر کی زیادہ سے زیادہ مدت 60 منٹ مقرر کی گئی ہے اور صرف طے شدہ پوائنٹس پر ہی طلبہ کو اٹھایا یا اتارا جائے گا۔ اگر والدین موجود نہ ہوں تو بس سپروائزر بچے کو واپس اسکول لے جائے گا۔
اسکولوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ٹریفک مینجمنٹ پلان تیار کریں، ایمرجنسی کمیونیکیشن پلان والدین کے ساتھ شیئر کریں اور بسوں و عملے کے لیے مخصوص پارکنگ فراہم کریں۔
یہ نئی پالیسی ابوظہبی میں اسکول ٹرانسپورٹ کے نظام کو محفوظ اور مؤثر بنانے کے لیے نافذ کی گئی ہے۔







