متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات میں 2027 سے ای اسکوٹر چلانے کے لیے پرمٹ لازمی، کم از کم عمر 15 سال مقرر

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں یکم جنوری 2027 سے نئے وفاقی ٹریفک قوانین نافذ ہوں گے، جن کے تحت الیکٹرک اسکوٹر چلانے کے لیے پرمٹ حاصل کرنا لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔ نئے ضوابط کے مطابق پرمٹ کے لیے درخواست دینے والے شخص کی کم از کم عمر 15 سال ہونی چاہیے جبکہ پرمٹ تین سال کے لیے مؤثر ہوگا۔

کابینہ کی قرارداد نمبر 174 برائے 2026 میں وفاقی ٹریفک قانون کے انتظامی ضوابط کی تفصیلات جاری کی گئی ہیں۔ ان میں الیکٹرک اسکوٹر، الیکٹرک سائیکل اور موپیڈ سمیت ذاتی نقل و حرکت کے آلات کے استعمال، پرمٹ، رجسٹریشن، حفاظتی سامان اور مخصوص راستوں سے متعلق قواعد شامل ہیں۔

نئے قوانین کے تحت ان تینوں اقسام کی سواریوں کے استعمال سے پہلے متعلقہ لائسنسنگ اتھارٹی سے پرمٹ حاصل کرنا ہوگا۔ ان آلات کی رجسٹریشن بھی ٹریفک یا لائسنسنگ حکام کے مقرر کردہ طریقہ کار کے مطابق لازمی ہوگی۔

وفاقی قوانین میں پرمٹ کے درخواست گزاروں کی کم از کم عمر 15 سال مقرر کی گئی ہے، تاہم دبئی میں پہلے سے نافذ قوانین کے تحت 16 سال سے کم عمر افراد کے لیے الیکٹرک اسکوٹر چلانے پر پابندی ہے۔ نئے وفاقی ضوابط میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ دبئی میں پہلے سے موجود عمر کی پابندی اور نئے وفاقی قانون پر کس طرح عمل درآمد ہوگا۔

نئے ضوابط میں ٹریفک سگنلز عبور کرنے کے حوالے سے بھی ہدایات شامل ہیں۔ ذاتی نقل و حرکت کے آلات استعمال کرنے والوں کو سرخ بتی پر سڑک عبور کرنے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ سبز بتی ہونے پر مقررہ قواعد کے مطابق راستہ عبور کیا جا سکے گا۔

اگر سبز بتی ٹمٹمانا شروع کردے تو سوار افراد کو راستہ عبور کرنا شروع نہیں کرنا چاہیے، تاہم جو افراد اجازت کے دوران پہلے ہی سڑک عبور کرنا شروع کر چکے ہوں، وہ اپنا راستہ مکمل کرسکتے ہیں۔

الیکٹرک اسکوٹرز کے لیے حفاظتی سامان اور تکنیکی معیار بھی مقرر کیے گئے ہیں۔ ہر اسکوٹر میں رات کے وقت راستہ روشن کرنے کے لیے سامنے ہیڈ لائٹ، عقب میں لائٹ اور بریک لگانے پر روشن ہونے والی سرخ بریک لائٹ لازمی ہوگی۔

اس کے علاوہ ہینڈل پر آواز پیدا کرنے والا وارننگ آلہ نصب ہونا چاہیے جبکہ کم از کم پچھلے پہیے پر بریک ہونا ضروری ہے۔ ٹائروں کو مضبوطی سے نصب اور استعمال کے لیے موزوں ہونا چاہیے۔ جہاں پہیوں میں تاریں استعمال ہوتی ہیں، انہیں بھی درست طریقے سے کسنا اور محفوظ رکھنا ہوگا۔ اسکوٹر کے تمام حصے مضبوطی سے جڑے ہونے چاہئیں، جبکہ متعلقہ لائسنسنگ اتھارٹیز مزید حفاظتی شرائط بھی عائد کرسکتی ہیں۔

نئے قوانین کے مطابق الیکٹرک اسکوٹر صرف ان راستوں پر چلائے جا سکیں گے جنہیں متعلقہ لائسنسنگ یا ٹریفک حکام نے مخصوص کیا ہو۔ سواروں کو ان راستوں کے لیے مقرر کردہ رفتار کی حد پر عمل کرنا ہوگا، جبکہ موٹر گاڑیوں کے لیے مخصوص سڑکوں پر الیکٹرک اسکوٹر چلانے کی اجازت نہیں ہوگی۔

یہ قواعد ذاتی ملکیت کے اسکوٹرز کے ساتھ تجارتی بنیادوں پر کرائے پر دستیاب سواریوں پر بھی لاگو ہوں گے۔ نئے ضوابط میں الیکٹرک اسکوٹر کی تعریف بھی واضح کی گئی ہے، جس کے مطابق دو یا اس سے زیادہ پہیوں والی ایسی سواری جو الیکٹرک موٹر سے چلتی ہو اور اسے کھڑے ہوکر یا بیٹھ کر استعمال کیا جا سکے، الیکٹرک اسکوٹر کہلائے گی۔

نئے وفاقی ضوابط ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب الیکٹرک اسکوٹر استعمال کرنے والوں اور پیدل چلنے والوں کی حفاظت سے متعلق خدشات بڑھ رہے ہیں۔ خلیج ٹائمز کے مطابق روڈ سیفٹی یو اے ای کی جانب سے وزارت داخلہ کے اعداد و شمار کے تجزیے میں بتایا گیا ہے کہ 2025 میں بڑے الیکٹرک اسکوٹر حادثات کی تعداد گزشتہ سال کے مقابلے میں 97 فیصد بڑھ گئی۔

روڈ سیفٹی یو اے ای اور الوثبہ انشورنس کے ایک ہزار 10 رہائشیوں پر کیے گئے سروے میں 93 فیصد افراد نے الیکٹرک اسکوٹر غیر محفوظ یا لاپرواہی سے چلاتے ہوئے دیکھنے کی اطلاع دی، جبکہ 89 فیصد نے ایسے سواروں کو ان علاقوں میں دیکھا جہاں اسکوٹر چلانے کی اجازت نہیں تھی۔

تاہم سروے میں 60 فیصد شرکا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ الیکٹرک اسکوٹرز نقل و حمل کی ایک اہم ضرورت پوری کرتے ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button