
خلیج اردو
دبئی میں نئے سال کی آمد سے ایک ماہ قبل ہی ہوٹلز، اپارٹمنٹس اور ولاز کی بکنگ عروج پر پہنچ گئی ہے، خصوصاً وہ رہائش گاہیں جہاں سے شہر کی شان دار آتش بازی کا واضح نظارہ کیا جا سکتا ہے۔ بعض مقامات پر صرف دو راتوں کا کرایہ ہی 2 لاکھ درہم سے بڑھ چکا ہے، جبکہ طلب میں مسلسل اضافہ جاری ہے۔
دبئی میں نئے سال کی رات شہر بھر میں شاندار آتش بازی کے شو منعقد ہوتے ہیں۔ پام جمیرہ کے اٹلانٹس اور ڈاؤن ٹاؤن میں برج خلیفہ سے لے کر گلوبل ولیج اور دبئی فیسٹیول سٹی تک، شہری اور سیاح اپنی پسند کے مقامات کا انتخاب کرتے ہیں، جہاں ہر مقام اپنی الگ خصوصیت رکھتا ہے۔
پام جمیرہ کے گولڈن مائل میں ایک لگژری اپارٹمنٹ، جو چھ افراد کے لیے مختص ہے، دو راتوں کے لیے 210,633 درہم میں دستیاب ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ فی شخص فی دن تقریباً 17,500 درہم بنتے ہیں، یعنی ایک گھنٹے کا خرچ 700 درہم سے بھی زیادہ۔ اس اپارٹمنٹ میں اوشن ویو، پرائیویٹ پول اور روف ٹاپ پول جیسی سہولیات شامل ہیں۔ ایک اور سِگنیچر سکس بیڈروم پام ولا دو راتوں کے لیے تقریباً 160,000 درہم میں دستیاب ہے، جس کے ساتھ پرائیویٹ بیچ تک رسائی بھی شامل ہے۔
ڈاؤن ٹاؤن دبئی میں برج خلیفہ کے براہِ راست نظارے کے لیے کئی مہنگے آپشن موجود ہیں۔ برج رائیل میں آٹھ افراد کے قیام کے لیے تین بیڈروم اپارٹمنٹ دو راتوں کے لیے تقریباً 165,000 درہم میں مل رہا ہے۔ نئے سال کی رات برج خلیفہ کی آتش بازی اور لیزر شو دیکھنے کے لیے لوگ ہزاروں درہم خرچ کرنے کو تیار ہیں، یہاں تک کہ دبئی مال کے اطراف کئی ریستورانوں میں 31 دسمبر کی رات کی سیٹیں 12,000 درہم فی کس تک پہنچ گئی ہیں۔ جبکہ برج خلیفہ کے سامنے پانچ بیڈروم پینٹ ہاؤس تقریباً 148,000 درہم میں دستیاب ہے۔
ہوٹلز میں بھی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ آرمٰانی ہوٹل میں نئے سال کے دوران کم از کم تین راتوں کا قیام لازمی ہے اور زیادہ تر کمرے بک ہو چکے ہیں۔ باقی ماندہ کمروں میں آرمٰانی دبئی سوئٹ، جو چھ مہمانوں کے لیے ہے، 45,000 درہم فی رات میں دستیاب ہے۔ اسی طرح ایڈریس دبئی مال میں برج خلیفہ اور فاؤنٹین ویو کے ساتھ پریمیئر سوئٹ 12,319 درہم فی رات کے حساب سے بک ہو رہا ہے، جس کے لیے کم از کم تین راتیں قیام ضروری ہے۔
اٹلانٹس دی رائل میں اسکائی پول ولا — جس میں خصوصی انفیٹی پول اور سمندر کا دلکش نظارہ شامل ہے — نئے سال کے دوران فی رات 31,841 درہم میں دستیاب ہے، اور کم از کم پانچ راتوں کا قیام لازمی قرار دیا گیا ہے، جس کا مجموعی خرچ 159,205 درہم بنتا ہے۔







