
خلیج اردو
بلوچستان کے ضلع موسیٰ خیل کے علاقے کوٹ خان محمد میں انگاروں پر چل کر بے گناہی ثابت کرنے کی صدیوں پرانی رسم ایک بار پھر منظرِ عام پر آنے کے بعد انتظامیہ نے سخت نوٹس لیتے ہوئے قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ چوری کے ایک واقعے میں نامزد آٹھ افراد کو جرگے کے فیصلے کے تحت دہکتے ہوئے انگاروں سے گزر کر اپنی بے گناہی ثابت کرنے پر مجبور کیا گیا، جس کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد حکام حرکت میں آ گئے۔
ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ملزمان ایک گڑھے کے کنارے کھڑے ہو کر کہتے ہیں کہ اگر وہ چوری میں ملوث ہیں تو اللہ انہیں اسی آگ میں جلا دے۔ اس کے بعد وہ ننگے پاؤں انگاروں سے گزرتے ہیں جہاں موجود لوگ فوراً انھیں اٹھا کر ایک چادر پر رکھتے ہیں اور ان کے پیروں پر مبینہ طور پر بکرے کا خون ملتے ہیں۔ رسم کے مطابق اگر پاؤں پر آبلے پڑ جائیں تو شخص کو مجرم اور اگر نہ پڑیں تو بے گناہ تصور کیا جاتا ہے۔ آٹھوں افراد کے گزرنے کے بعد وہاں موجود لوگوں نے انہیں مبارکباد بھی دی۔
ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبدالرزاق خجک کے مطابق یہ غیر قانونی عمل ضلع کے ایک دور دراز علاقے میں انجام دیا گیا اور واقعہ سامنے آتے ہی انتظامیہ حرکت میں آ گئی ہے۔ ایک اہم شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ مزید چار سے پانچ افراد کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔ ڈی سی کے مطابق ایسے واقعات ریاستی قانون کی صریحاً خلاف ورزی ہیں اور ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی۔
بلوچستان میں اس رسم کو بلوچی میں ’آس آف‘ اور پشتو میں ’چُر‘ کہا جاتا ہے، جو زیادہ تر مشرقی اور شمال مشرقی قبائلی علاقوں میں رائج ہے۔ مقامی تحقیق کے مطابق گڑھا چھ قدم لمبا اور دو فٹ گہرا ہوتا ہے، جس میں دہکتے انگاروں پر سے گزر کر بے گناہی ثابت کی جاتی ہے۔ سندھ کے کچھ علاقوں میں اس رسم کو ’چربیل‘ یا ’چربیلی‘ بھی کہا جاتا ہے۔ ایک اور ملتی جلتی رسم میں ملزم کو گرم لوہا ہاتھ میں پکڑنا پڑتا ہے۔ چند روز قبل پنجاب کے ضلع ڈیرہ غازی خان کے علاقے پگھلہ میں بھی اسی نوعیت کا واقعہ پیش آیا تھا جس میں گرم لوہا پکڑوانے کے حکم پر جرگے کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات نہ صرف غیر قانونی ہیں بلکہ انسانی حقوق کے منافی بھی ہیں، اور حکومت قبائلی علاقوں میں اس طرح کی فرسودہ رسومات کے خاتمے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔






