متحدہ عرب امارات

بریکنگ نیوز : پاکستان اور سعودی عرب تعلقات میں پیش رفت پاکستان آرمی چیف کی شاہ سلمان سے ملاقات طے

دورے میں آرمی چیف سعودی بادشاہ شاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کرنگے

(خلیج اردو ) پاکستان آرمی چیف لیفٹنٹ جنرل قمر جاوید باجوہ کا سعودی عرب دورہ اگلے ہفتہ متوقع ہے ۔دورے میں آرمی چیف سعودی بادشاہ شاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کرنگے۔

تازہ ترین پیش رفت کی جانب دی نیوز کی ایک خبر نے اشارہ کیا ہے جس کے مطابق اس ساری صورتحال کے بیچ پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سعودی عرب کا دورہ کریں گے جو اگلے ہفتے میں شیڈول کیا گیا ہے ۔اس دورے کو موجودہ صورتحال میں بہت اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔

خبر کے مطابق جنرل قمر جاوید باجوہ سعودی بادشاہ شاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقاتیں متوقع ہے ۔ ملاقاتوں میں آرمی چیف افغانستان میں بدلتی صورتحال اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی بربریت کے بارے شاہی خاندان کو صورتحال سے آگاہ کریں گے۔ خبر میں کہا گیا کہ امید ہے کہ یہ ملاقات دو ملکوں کے درمیان غلط فہمیوں کو دور کرے گی۔

میڈیا اطلاعات کے مطابق اس دورے کا مجموعی مقصد سعودی عرب کی قیادت کی ناراضی کو دور کرنا ہے جو کہ شاہ محمود قریشی کے بیانات کے بعد پیدا ہوئی ہے۔ اس حوالے سے اس ہفتے میں پیر کے روز آرمی چیف سے سعودی سفیر نے ملاقات کی تھی جس کے بعد ہی اس دورے کے متعلق خبر سامنے آئی ہے جس کے بعد قیاس ہے کہ اس ملاقات میں ہی معاملات طے ہوئے ہیں۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے کشمیر کے معاملے پر او آئی سی کے کردار اور اس میں سعودی اثر و رسوخ کے بارے میں بیانات کے بعد سعودی عرب نے مشتعل ہو کر پاکستان سے ادھار تیل کی سہولت واپس لے لی ہے جبکہ تین ارب ڈالر میں سے ایک ارب ڈالر بھی دباؤ ڈال کر واپس لے لئے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات تاریخی گراوٹ اور بگاڑ کا شکار ہو چکے ہیں۔

اس حوالے سے مڈل ایسٹ مانیٹر نامی جریدے نے سعودی ذرائع کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ سعودی عرب پاکستانی وزیر خارجہ کے بیانات پر شدید برہم ہے اور یہی بیانات ہی تھے جو سعودی معاشی پیکج کی اچانک معطلی کی وجہ بنی ۔ جریدے نے لکھا کہ یہ سب پاکستان سعودیہ تعلقات میں بگاڑ کا ایک نیا سنگ میل ہے اور معاشی بحران کا سامنا کرنے والے پاکستان کے لئے اس کے مضراثرات دور رس ہوں گے۔

کشمیر کے معاملے پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اے آر وائی کو متنازعہ انٹرویو دیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ کشمیر کا معاملہ پاکستان کے لئے حساس ہے۔ خلیجی ممالک کو یہ سمجھنا ہوگا، میں او آئی سی کو بصد احترام کہہ رہا ہوں کہ ہماری کشمیر پر امیدیں زیادہ ہیں۔ سعودی عرب کا اثر و رسوخ او آئی سی پر بہت ہی زیادہ ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس بلایا جائے اور اگر یہ نہ بلایا گیا تو پاکستان معاملات اپنے ہاتھ میں لینے پر مجبور ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ پھر وزیر اعظم عمران خان کو کہیں گے کہ وہ ان ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس بلائیں جو کشمیر کے معاملے پر پاکستان کے موقف کے ساتھ ہیں۔

انہوں نے اے آر وائی کے شو میں دیئے گئے اس انٹرویو میں کہا کہ کشمیر کے معاملے پر وہ پھر آگے جائیں گے ان (سعودی عرب اور عرب ممالک) کے ساتھ یا انکے بغیر۔ یہ انٹرویو در اصل او آئی سی کی جانب سے کشمیر کے معاملے پر مسلم ممالک کا خارجہ اجلاس بلانے کی درخواست کے مسترد ہونے کے بعد دیا گیا تھا۔

تاہم لگ یہی رہا ہے کہ شاہ محمود قریشی کے بیانات کے بعد صورتحال پاکستان کے حق میں جانے کی بجائے مخالف سمت میں چلی گئی ہے جسے سنبھالنے کے لئے جنرل قمر جاوید باجوہ میدان میں اترے ہیں۔

Source:Pakistan Media

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button