
متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانیوں کو انتہائی محتاط رہنا ہوگا کیوں کہ حکام نے رہائشیوں کوکورونا کے حفاظتی اقدامات کے بارے میں گمراہ کن معلومات یا افواہوں کی اشاعت یا گردش کرنے کے خلاف متنبہ کیا ہے کہ قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے کو کم از کم دو سال قید اور 2 لاکھ درہم جرمانہ ہو سکتا ہے ، شہریوں کو حفاظتی اقدامات کا مذاق اڑانے کے خلاف بھی خبردار کیا گیا ہے ۔
خلیج ٹائمز کے مطابق فیڈرل پبلک پراسیکیوشن میں ایمرجنسی، کرائسز اینڈ ڈیزاسٹر پراسیکیوشن نے کہا کہ اس نے کچھ سوشل میڈیا پوسٹس دیکھی ہیں جن میں ملک میں نافذ کوویڈ سیفٹی پروٹوکول کا مذاق اڑایا گیا ہے ، کچھ پوسٹس میں کورونا کے مثبت کیسز کو نمایاں کیا گیا جب کہ ویڈیو یا آڈیو کلپس کے ساتھ تنہائی اور قرنطینہ کے اقدامات پر عمل نہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
استغاثہ نے مزید کہا کہ ایسی پوسٹس وائرس کے پھیلاؤ کو مؤثر طریقے سے روکنے میں ملک کے حکام کی کوششوں کا مذاق اڑاتی ہیں ، جعلی خبروں کی سزا جرمانہ اور قید ہے ،2021 کے وفاقی حکم نامے کے قانون نمبر 34 کے مطابق جو کوئی بھی سرکاری ذرائع سے شائع ہونے والی خبروں کے برعکس جھوٹی خبریں ، افواہیں یا گمراہ کن معلومات شائع کرنے، پھیلانے یا پھیلانے کے لیے انٹرنیٹ کا استعمال کرتا ہے تو اسے کم از کم ایک سال قید اور ایک لاکھ درہم تک جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے اور اگر جھوٹی خبریں یا افواہیں ریاستی حکام کے خلاف رائے عامہ کو مشتعل کرتی ہیں یا وبائی امراض، بحرانوں یا آفات کے دوران پیش آتی ہیں ، تو خلاف ورزی کرنے والے کو کم از کم دو سال قید اور 2 لاکھ درہم جرمانہ ہو سکتا ہے ، اس لیے سوشل میڈیا صارفین سے مطالبہ کیا کہ وہ ذمہ دار بنیں اور کووڈ حفاظتی اقدامات کو نافذ کرنے میں حکام کی مدد کریں۔







