
خلیج اردو
دبئی: متحدہ عرب امارات کی معروف سپر مارکیٹ چین چوئترمز نے ہزاروں روزمرہ استعمال کی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مستقل کمی کا اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت نئی قیمتیں طویل مدت کے لیے لاگو رہیں گی۔
چوئترمز کے چیف ایگزیکٹو مارک مورٹیمر ڈیوس نے خلیج ٹائمز کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ یہ قیمتیں مستقل ہیں اور یہ اقدام قلیل مدتی پروموشن کے بجائے تقریباً 10 ہزار مصنوعات پر طویل المدتی قیمتوں کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ ان کے مطابق قیمتوں میں کمی تین مراحل میں رواں سال کی پہلی ششماہی کے دوران نافذ کی جائے گی، تاہم ایک بار قیمتیں مقرر ہونے کے بعد یہی نئی روزمرہ قیمتیں برقرار رہیں گی۔
مارک مورٹیمر ڈیوس نے بتایا کہ اوسطاً تمام اسٹورز اور آن لائن پلیٹ فارمز پر قیمتوں میں 15 فیصد کمی کی گئی ہے، جس کا مقصد روزمرہ اشیاء کو مستقل بنیادوں پر سستا بنانا اور دیگر بڑی سپر مارکیٹس کے ساتھ مسابقتی قیمتیں یقینی بنانا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ اقدام یو اے ای کی کسی بھی سپر مارکیٹ کی جانب سے کی جانے والی بڑی قیمتوں کی اصلاحات میں سے ایک ہے، جو مجموعی مصنوعات کے تقریباً ایک تہائی حصے پر محیط ہے اور خاص طور پر خوراک، نان فوڈ، تازہ اور فریز شدہ اشیاء پر توجہ دی گئی ہے۔
چوئترمز نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں تقریباً 3 ہزار 500 مصنوعات شامل ہیں، جس سے صارفین کو مجموعی طور پر 1 کروڑ 30 لاکھ درہم تک کی بچت متوقع ہے۔ یہ فیصلہ 2025 میں کیے گئے ایک سروے کے بعد کیا گیا جس میں تقریباً 8 ہزار صارفین نے شرکت کی اور مہنگائی اور اشیاء کی قیمتوں کو بڑا مسئلہ قرار دیا گیا۔
کمپنی کے مطابق قیمتوں میں کمی کسی ایک وقتی رعایت کے بجائے ایک مستقل پالیسی تبدیلی ہے، جس کا فوکس وہ اشیاء ہیں جو گھریلو صارفین ہفتہ وار بنیادوں پر خریدتے ہیں۔
نظرثانی شدہ قیمتوں کی مثالوں میں بسکٹ اور اسنیکس کی قیمتوں میں 17 سے 19 فیصد، فریزڈ آلو کی مصنوعات میں 14 سے 16 فیصد، ڈبہ بند سمندری غذا میں تقریباً 15 فیصد کمی شامل ہے۔ اسی طرح گھریلو صفائی کی اشیاء اور ایلومینیم فوائل بعض صورتوں میں 20 فیصد سے زائد سستی کی گئی ہیں، جبکہ ڈیوڈرنٹ، شیمپو سمیت ذاتی استعمال کی اشیاء میں 18 سے 25 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ چاول، روٹی، انڈے، دودھ اور تازہ چکن جیسی بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں بھی 9 سے 14 فیصد کمی کی گئی ہے۔
چوئترمز کے ڈائریکٹر دنیش پگارانی نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ خاص طور پر رمضان کے دوران گھریلو بجٹ ایک چیلنج بن جاتا ہے، یہ اقدام اس بات کو یقینی بنائے گا کہ ضروری اشیاء مسلسل کم قیمتوں پر دستیاب رہیں۔







