
خلیج اردو
فلپائن کی سپریم کورٹ نے نائب صدر سارہ ڈوٹرٹے اور ان کے حامی وکیل اسرائیلیٹو ٹوریون کی جانب سے ایوان نمائندگان میں جاری مواخذے کی کارروائی روکنے کے لیے دائر درخواستیں مسترد کردی ہیں۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ درخواستیں اب قابلِ سماعت نہیں رہیں کیونکہ ایوان نمائندگان مواخذے کی کارروائی مکمل کرکے کیس سینیٹ کو منتقل کرچکا ہے جبکہ سینیٹ میں مواخذے کا ٹرائل پہلے ہی ایک ماہ سے جاری ہے۔
عدالت کے مطابق ایوان نمائندگان کی جانب سے Articles of Impeachment سینیٹ کو بھیجنے کے ساتھ ایوان کا کردار ختم ہوگیا اور مواخذے کا باقاعدہ مقدمہ شروع ہوگیا تھا۔
سارہ ڈوٹرٹے اور ان کے حامیوں نے موقف اختیار کیا تھا کہ ایوان کی جسٹس کمیٹی نے ابتدائی سماعتوں اور شواہد جمع کرنے کے دوران اپنے اختیارات سے تجاوز کیا۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سینیٹ میں جاری مواخذے کے ٹرائل کو آگے بڑھنے کی اجازت مل گئی ہے۔
مواخذے کے مقدمے میں سارہ ڈوٹرٹے پر صدر فرڈینینڈ مارکوس جونیئر، خاتونِ اول لیزا مارکوس اور سابق اسپیکر فرڈینینڈ مارٹن روموالڈیز کے خلاف مبینہ قتل کی دھمکیوں سمیت سرکاری فنڈز کے مبینہ غلط استعمال کے الزامات زیرِ بحث ہیں۔
مواخذے کی عدالت اب سارہ ڈوٹرٹے کے مبینہ طور پر کروڑوں پیسو کے خفیہ اور انٹیلیجنس فنڈز کے غلط استعمال سے متعلق آڈٹ رپورٹس اور گواہوں کے بیانات کا جائزہ لے رہی ہے۔
آڈیٹرز کے مطابق 2022ء سے 2024ء کے دوران سارہ ڈوٹرٹے کے نائب صدر اور وزیر تعلیم کی حیثیت سے مبینہ طور پر 612.5 ملین فلپائنی پیسو کے فنڈز کے غلط استعمال کا معاملہ سامنے آیا۔
فلپائن کے کمیشن آن آڈٹ نے اس سے قبل سارہ ڈوٹرٹے اور دیگر ذمہ دار حکام کو 448 ملین پیسو کے ایسے خفیہ فنڈز واپس کرنے کا حکم بھی دیا تھا جن کے اخراجات کو ناقابلِ قبول قرار دیا گیا۔
مواخذے کی کارروائی میں مزید گواہوں سے مبینہ مالی بے ضابطگیوں، غیر معمولی نقد رقوم نکلوانے، اثاثوں کے مبینہ غیر واضح ذرائع، غلط اثاثہ گوشواروں، رشوت اور بدعنوانی سے متعلق سوالات کیے جائیں گے۔
رپورٹ کے مطابق ٹرائل کے لیے مزید 79 سماعتیں مقرر ہیں اور موجودہ رفتار برقرار رہی تو کارروائی سال کے اختتام تک جاری رہنے کا امکان ہے۔






